جمعرات، 18 اکتوبر، 2018

صفائی


اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا




اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا
یہ شعر کچھ عرصہ پہلے میرے بہت ہی عزیز دوست ذیشان رشید کی دیوار پہ دیکھا۔ دل تو کر رہا تھا کہ وہیں تبصرہ کردوں لیکن ملاقات ہوئے کافی عرصہ ہوگیا اور آخری ملاقات اتنی مختصر تھی کہ تشنگی باقی رہ گئی اور مجھے باقاعدہ گستاخی کا موقع نہیں مل سکا۔ ایسا بھی نہیں کہ میں فطرتا گستاخ ہوں لیکن ذیشان بھائی واحد بزرگ دوست ہیں جن کی شان میں میں گستاخی باقاعدہ کرتا ہوں باقیوں کی شان میں مجھ سے گستاخی ہوجاتی ہے۔ بسا اوقات یہ خود فرمائش کرکے گستاخی کرواتے ہیں۔ اگر دو گستاخیوں کا درمیانی وقفہ بڑھ جائے تو وہ نہ صرف اسکو میری صحت بلکہ نیت کی خرابی بھی سمجھنے لگتے ہیں۔ اس شعر کے حوالے سے اعتراضات تو مجھے ہمیشہ سےرہے ہیں لیکن ذیشان بھائی نے جب اپنی دیوار پر پوسٹ کیا تو میرے لئے دعوت کی بجائے ایک حکم کا درجہ رکھتا تھا کہ اس پر تفصیلی تبصرہ کروں۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ محبت کوئی گائے بھینس یا بکری تو ہے نہیں کہ پالنے کے بعد آپ کو بہت سارے دوسرے فوائد کیساتھ دودھ بھی دینے لگ جائے۔ محبت کرکے کسی فائدے کی توقع رکھنا ایسا ہی ہے جیسے شیر پال کر اس سے دودھ دوھنےکی بھی توقع رکھی جائے۔ اور پھر محبت کا انجام کونسا کوئی ڈھکا چھپا ہے؟ محبت زیادہ سے زیادہ دو ہی صورتوں پر منتج ہوسکتی ہے یا تو ناکام ہوکر شادی ہوجاتی ہے یا پھر کامیاب ہوکر جدائی۔ اور رونا دونوں صورتوں میں لازم ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اوّل الذکر صورت میں چھپ کر اور چپکے چپکے رونا پڑتا ہے اور مؤخرالذکر صورت میں ببابگ دہل اورسر عام۔
ادب کو شاید ادب اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ مختلف چیزوں کو بڑے پرکشش نام  دے دیتا ہے مثلاً رونے دھونے کو اگریہ و زاری، اپنے کپڑے خود پھاڑنے یا محبوب کے عزیزواقارپ کے ہاتھوں پھڑوانے کو چاق دامانی، اور اپنے اوپر لگنے والے تمام سچے الزامات کو تر دامنی اور پھر ان تمام کو اکٹھا کرکے شاعری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ جون ایلیا مرحوم ایک سچے شاعر تھے اسلئے سچ بول گئے۔ فرماتے ہیں 
فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی 
فلاں کے زخم اچھے تھے فلاں سے
 تاریخ کی کونسی کتاب میں لکھا ہے کہ مجنوں محبت کرکے اسٹروناٹ بن گیا تھا اور خلا میں جاکر نئے سیارے دریافت کرکے آیا تھا؟ مجھے تو ایسی کوئی کتاب نظر نہیں آئی۔ وہ بھی تو صحراؤں کی خاک چھانتا رہا تھا۔ سوہنی محبت کرکے کونسا سومنگ کی اولمپک چیمپین بنی تھی؟ وہ بھی تو اتاولی ہوکر کچا گھڑا اٹھا کر لے گئی اور دریا میں کود کر مر گئی۔ حالانکہ کہا جاتا ہے کہ وہ پانی سے اتنی ڈرتی تھی کہ جب بھی ماں دریا کنارے کپڑے دھونے یا گھڑا بھر لانے کو کہتی تو اسکا یہی بہانہ ہوتا کہ مینو وگدے پانڑی توں ڈر لگدا۔ لیکن تمام تر کام چوری کے باوجود جب محبت کی تو اسی محبت کے ہاتھوں ڈوب گئی۔ اگر محبت کے زیر اثر نہ ہوتی تو غالب گمان یہی ہے کہ اپنی فطری کاہلی اور کام چوری کی وجہ سے کنارے کھڑے ہوکر ہی مہیوال کو آواز دیتی کہ ادھر آتے چُک کے لے جا مینو پر نہیں اسے محبت ہوگئی تھی اور محبت کا انجام یہی ہوتا ہے۔ فرہاد بھی شیریں کیلئے نہر کھود کر لایا تو کونسی انجنئیرنگ کی ڈگری ملی یا نوکری ملی؟ ارے نوکری تو چھوڑیں چھوکری بھی نہیں ملی جسکے لئے پہاڑ کھود کر نہر نکالی۔ وہ بھی مُکر گئی تھی کہ بندہ پہلے ہی پہاڑ کھود کر ایکسپائر ہو چکا ہے۔ کچھ عرصے بعد ہی جوڑوں میں درد شروع ہوجائیں گے اور گھر کا سودا سلف لانے قابل بھی نہیں ہوگا۔ لوگ کہتے ہیں فرہاد شدت غم سے مرگیا تھا میں کہتا ہوں اسکا ٹھیک سے پوسٹ مارٹم ہوجاتا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا۔ صاف پتا چل جاتا کہ over-exertion کی وجہ سے ہارٹ اٹیک ہوا۔ تو بھائی محبت کے انجام پہ رونا کیسا؟ یہ تو نوشتہ دیوار تھا اور سرپرائز کے چانس زیروپرسنٹ تھے۔ اب آپ اگر کیکر کے درخت کو پتھر مار کر آم گرنے کی توقع کرتے ہیں تو قصور کیکر اور پتھر کا نہیں آپ کی ناجائز توقعات کا ہے۔ اسلئے رونا دھونا بند کرکے کوئی ڈھنگ کا کام شروع کردیں۔ محبت اور رونے دھونے کیلئے ابھی عمر پڑی ہے۔ ویسے بھی محبت کیلئے جتنا وقت درکار ہے میرے خیال میں یہ کام ریٹائرمنٹ کے بعد ہی کرنا چاہئے۔ تب لوگ شک بھی نہیں کرتے۔ (سیف الله خان مروت)

وہ بھیانک رات



رات ساڑھے تین کا وقت تھا۔ میری نظر گھڑی پر پڑی تو فوراً لیپ ٹاپ بند کیا اور جلدی سے بستر میں گھس کر سونے کی کوشش کرنے 
لگا۔ خیالات کا ایک ہجوم سونے نہیں دے رہا تھا۔ باہر تیز ہوا چل رہی تھی اور دور سے بادل گرجنے کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ نہ جانے کب میری آنکھ لگی اور میں سوگیا۔ 
اچانک میری آنکھ کھلی۔ کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔ بادل اب زور سے گرج رہے تھے۔ مجھے عجیب سی بے چینی ہورہی تھی۔ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ سر میں درد ہورہا تھا۔ بجلی چمکتی تو میں اسکی روشنی میں کمرے کا جائزہ لے لیتا لیکن کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ انجانے خوف سے میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اچانک بجلی زور سے چمکی اور مجھے ہال کی کھڑکی پر ہیولا سا نظر آیا۔ اس کے بعد بجلی کی چمک میں میں اس ہیولے کو دیکھنے لگا۔ وہ کبھی دائیں اور کبھی بائیں حرکت کر رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی کمرے میں جھانکنے کی کوشش کر رہا ہو۔ مجھے اپنی ہتھیلیوں پر پسینے کی بوندیں محسوس ہونے لگیں۔ چونکہ میرا گھر قبرستان کے بالکل سامنے ہے اور اس گھر میں آنے کے بعد پتا چلا تھا کہ یہ گھر اکثر خالی رہتا ہے کیونکہ اس میں جن بھوتوں کا ٹھکانہ ہے۔ میں یہ تعین کرنے کی کوشش میں تھا کہ یہ کوئی جن بھوت ہے روح یا پھر چور۔ پھر یہ سوچ کر کہ جن بھوت تو بند دروازے سے اندر آسکتے ہیں یہ کوئی چور ہی ہوگا۔ اب میں یہ سوچ رہا تھا کہ چور اگر آیا ہے تو خالی ہاتھ تو نہیں آیا ہوگا کوئی نہ کوئی اسلحہ اسکے پاس ضرور ہوگا۔ ہوسکتا ہے وہ ایک سے زیادہ ہوں۔ میرے پاس لے دے کےایک لاٹھی تھی۔ پہلے میں نے سوچا کہ آرام سے سو جاؤں لیکن پھر سوچا کہ نہیں اس سے چوروں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ میں نے اندھیرے میں ٹٹول کر لاٹھی اٹھائی اور دبے پاؤں کمرے سے نکل کر ہال میں آگیا۔ ہال کے دروازے کے قریب پہنچ کر کانپتے ہاتھوں سے کنڈی کھولنے لگا۔ کنڈی بہت آہستہ آہستہ کھولی جس سے کوئی کھٹکا نہیں ہوا۔ میں نے دروازے سے باہر جھانکا جہاں کھڑکی کیساتھ ہیولا نظر آیا تھا۔ میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ وہ جو کچھ بھی تھا انسان نہیں تھا۔ کمر کے قریب دھڑ ختم ہوگیا تھا۔ اسکی ٹانگیں نہیں تھیں ایسا لگ رہا تھا وہ ہوا میں معلق ہے۔ میں آہستہ سے پیچھے ہٹ کر دروازے کی اوٹ میں کھڑا ہوگیا۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اسکا کیا کیا جائے کہ اچانک بجلی بہت زور سے چمکی اور مجھے لگا بھوت نے حملہ کردیا۔ میں نے غیر ارادے طور پر اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔ جب بادل گرجا تو احساس ہوا کہ بجلی چمکی ہے۔ اب اور کیا کیا جاسکتا تھا میں گھر میں اکیلا اور بھوت کھڑکی کے پار منتظر۔ میں آیت الکرسی پڑھ کر خود پر پھونک دی۔ اب کچھ حوصلہ ملا۔ میں نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا، دیکھو تم جو کوئی بھی ہو ہم چھ مہینے سے ادھر اکیلے رہ رہے ہیں کبھی ایکُدوسرے کو پریشان نہیں کیا تم مہربانی کرو اپنا راستہ لو۔ ہمارا کوئی جھگڑا نہیں۔ پھر میں نے جھانک کر دیکھا تو ہیولا بہت موٹا ہوتا نظر آیا۔ میں واپس اوٹ میں چھپ گیا۔ ایک بار پھر ہمت کرکے کہا، دیکھو میں صلح پسند انسان ہوں آپ نے ادھر رہنا ہے بے شک اوپر کی منزل میں رہ لیں مجھے اوپر والا پورشن نہیں چاہئے لیکن ہریشان نہ کرو۔ جیسے ہی میں نے یہ بات کی کھٹاک کی آواز آئی جیسے کچھ گرا ہو۔ میں نے جھانک کر دیکھا تو ہیولا غائب تھا۔ میں نے سکھ کا لمبا سانس لیا۔ ہاتھ بڑھا کر لائٹ جلائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ جو شرٹ میں نے کھڑکی کے گرِل پر سوکھنے کیلئے لٹکائی تھی وہ ہنگر سمیت نیچے گری پڑی تھی۔ شرٹ اٹھا کر میں اندر آگیا۔

ye zabta hai ki baatil ko mat kahun baatil | ضابطہ | Habib Jalib

یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازوئے قاتل یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ د...