K2 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
K2 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 16 فروری، 2021

کے ‏ٹو ‏نامہ ‏قسط ‏9

کونکورڈیا سے کے ٹو بیس کیمپ
17 جولائی 2018

صبح اٹھے تو پہلی بار ذرا معمول سے ہٹ کر تھا۔ چونکہ واپس ادھر ہی آنا تھا اسلئے مختصر سامان باندھا گیا۔ جو دوسرا گروپ ہمارے ساتھ تھا ان کے ساتھ مشورہ کرکے کچن مشترک کرلیا مطلب ایک کچن ٹینٹ اٹھایا اور ایک رات کے کھانے اور صبح ناشتے کا سامان اور رہائشی خیمے اور سلیپنگ بیگز۔ باقی سامان اور کچھ لوگ ادھر ہی چھوڑے اور نکل پڑے۔ کونکورڈیا سے کے ٹو تک جو گلیشئیر پھیلا ہوا ہے وہ دور سے بالکل ایک ہموار سڑک کی طرح نظر آتا ہے۔ ایک گھنٹہ کروسز (Craveses) سے نکلنے اور سامنے والے گلیشئر تک پہنچنے میں لگا۔
گائیڈ مسلسل حوصلہ بڑھا رہا تھا کہ بس یہی مشکل جگہ ہے اسکے بعد بالکل سیدھا اور ہموار راستہ ہے۔ یہ باتیں ایک ہفتے سے سن سن کر اتنی سمجھ آگئی تھی کہ سیدھے راستے کا مطلب صرف یہ ہے کہ بندہ اندازے سے ٹامک ٹوئیاں نہیں مارتا بلکہ راستہ معلوم ہوتا ہے باقی آسان راستہ گلیشئرز میں کہیں نہیں ہوتا۔ اور یہ پہلا گھنٹہ واقعی مشکل تھا۔ خدا خدا کرکے وہاں سے نکلے تو کچھ راستہ سجھائی دیا۔ آگے راستہ آسان بالکل نہیں تھا البتہ چلنے قابل ضرور تھا۔
میں نے تجرباتی طور پر ایک پورٹر کا وزن اٹھایا جب وہ آرام کرنے کیلئے رکا اور اپنا بیگ اس کے حوالے کردیا۔ وہ منع کرتا رہا لیکن میں نے کہا کہ نہیں مجھے ذرا محسوس کرنا ہے کہ پورٹر کیسا محسوس کرتا ہے اتنا وزن اٹھا کر۔ جب ایک دفعہ وزن کمر پر لاد کر کھڑا ہوگیا تو اس کے بعد اتنا بوجھ محسوس نہیں ہورہا تھا۔ آہستہ آہستہ چلنا شروع کیا اور دھیمی رفتار سے لگ بھگ دو سو میٹر ہے چلا ہوں گا کہ پیچھے سے پورٹر پہنچ گیا اور کہا کہ بس سامان دے دیں۔ جب سامان دینے کےلیےرکا تو اسکے بعد پندرہ منٹ تک تو میرا سانس معمول پر نہیں آیا۔ سانس سیدھا کرنے کے بعد جب چلنے لگا تو جسم بہت ہلکا محسوس ہورہا تھا لیکن رانیں بالکل بے جان سی لگ رہی تھیں۔ 30 کلو وزن نے دو سو میٹر میں ہی میری ساری توانائی نچوڑ لی تھیں۔ اسکے بعد پورٹرز کی قدر میری نظر میں اور بھی بڑھ گئی یہ سوچ کر کہ وہ ڈیڑھ سو کلومیٹر سے یہ سامان اٹھا کر چل رہے ہیں اور بہت اونچی اونچی چڑھائیاں بھی چڑھتے رہے ہیں۔ یہ راستہ تو ان راستوں کے مقابلے میں بالکل ہموار تھا۔
ایک گھنٹہ مزید چلنے کے بعد براڈ پیک بیس کیمپ نظر آنے لگا۔ رنگ برنگی خیموں سے بھرا ہوا بہت خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا۔ لیکن آسمان پر بادل چھا گئے اور دھوپ غائب ہوگئی۔
براڈ پیک بیس کیمپ پہنچے تو پتا چلا کہ یہاں دو اہم کام ہورہے ہیں۔ ایک تو کوہ پیما گروپ براڈ پیک سر کرنے گیا ہوا تھا وہ گزشتہ رات آخری کامیاب حملہ کرکے چوٹی سر کرچکے ہیں اور واپس لوٹ رہے ہیں۔ مجھے اس لفظ حملے سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے کہ اسے حملہ کیوں کہتے ہیں۔ اسکی وضاحت عباس نے کی۔ عباس نے کہا کہ کوہ پیما پہاڑ کے ساتھ مسلسل حالت جنگ میں ہوتا ہے۔ جس طرح انسان کے جسم پر ایک چھوٹی سی چیونٹی رینگے تو انسان فورا" مسل دیتا ہے یا پھینک دیتا ہے بالکل یہی پہاڑ انسان کے ساتھ کرتا ہے۔ خوش قسمتی اور قابلیت یہی ہے کہ پہاڑ پھینک نہ سکے اور آپ اسکے پورے جسم سے ہوتے ہوئے آخر اسکے سر پر حملہ کریں اور اسکے سر پر پاوں رکھیں۔
اس وضاحت کے بعد اب آخری چڑھائی کو حملہ کہنا مجھے اتنا عجیب نہیں لگتا۔
دوسرا اہم کام جو اس وقت اس وہاں رہا تھا وہ پولینڈ کی ایک فلمساز کمپنی "Broad Peak" نامی فلم کی شوٹنگ کر رہی تھی۔ یہ فلم 2021 میں سینماوں میں آئے گی۔وہاں موجود ٹیم سے بات کرنے کے بعد پتا چلا کہ یہ دراصل پولش مہم جو ماسیج باربیکا کی مہم جوئی کے بارے میں ہے جو 2013 میں براڈ پیک پر غائب ہوگئے۔ واپس آکر جب تحقیق کی تو اسکی کہانی بڑی دلچسپ نکلی۔
باربیکا نے 1984 میں سردیوں میں آٹھ ہزار کی چوٹیاں سر کرنا شروع کیا۔ 6 مارچ 1988 کو اس نے اپنی ٹیم کیساتھ براڈ پیک سر کیا اور خوشی خوشی واپس گھر پہنچ گئے۔ وہاں دوستوں نے تصویریں دیکھیں تو بتایا کہ یہ تو آپ چٹان والی چوٹی تک گئے ہیں جو 8028 میٹر اونچی ہے جبکہ اصل چوٹی 23 میٹر زیادد اونچی ہے اور ایک گھنٹہ مزید وقت لگتا ہے وہاں سے۔
اس ناکامی سے باربیکا اتنا مایوس ہوا کہ اس نے طویل عرصے تک کوہ پیمائی ترک کی۔
2013 میں یعنی چوبیس سال بعد اسکا ٹیم ممبر ویلیکی اسے کال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ 24 سال سے جو کام ادھورا ہے وہ پورا کرنے چلتے ہیں۔ یاد رہے کہ اب باربیکا کہ عمر 59 سال تھی جبکہ تب 35 سالہ نوجوان تھا۔
ٹیم پاکستان آئی اور سردیوں میں براڈ پیک مہم پر روانہ ہوئی۔ 5 مارچ 2013 کو چوٹی سر کی اور 6 مارچ کو باربیکا اور اسکا نوجوان ساتھی توماز کوالسکی غائب ہوگئے۔ دو دن تلاش کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ شاید چوبیس سال کی جدائی برداشت کرنے کے بعد لوٹنے پر براڈ پیک نے اسے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنے سینے میں چھپا لیا یہ کہہ کر کہ "آگیا تو بوڑھا ہوکر"۔
6 مارچ 1988 سے 6 مارچ 2013 کی یہ کہانی فلم بند کی جارہی تھی۔
تھوڑی دیر وہاں موجود سٹاف سے گپ شپ کرنے کے بعد ہم آگے بڑھ گئے۔
اب موسم بہت خراب ہوگیا تھا اور بادل زمین پر اتر آئے تھے۔ کچھ دیر کیلئے تو حد نگاہ بالکل چند میٹر رہ گئی تاہم تھوڑی دیر بعد دھند کم ہوگئی۔ برف باری بھی شروع ہوگئی تھی۔ ہمارے پورٹررز اور دوسرا گروپ آگے نکل چکا تھا۔ ہم آہستہ آہستہ چل رہے تھی۔ برف باری اور ٹھنڈ نے نہ صرف رفتار کم کی بلکہ رہی سہی توانائی بھی نچوڑ لی۔ ہمارا نان کسٹم پیڈ گائیڈ حسب معمول راستہ بھول گیا۔ بقول اسکے جس جگہ راستہ ہونا چاہئے تھا یا پہلے تھا اب وہاں راستہ نہیں تھا۔ ہمارے گائیڈ کو راستے مسلسل دھوکہ دے رہے تھے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔مجبورا" ہم جہاں سے ممکن ہوا اورجیسے تیسے گزر سکتے تھے جان ہتھیلی پر لیکر غیر ضروری خطرہ مول لیکر آگے بڑھتے گئے۔
عصر کا وقت تھا جب ہم کے ٹو بیس کیمپ پہنچ گئے۔ برف باری ہورہی تھی، کے ٹو بادل کی چادر بلکہ پوری رضائی اوڑھ کر چھپ گیا تھا اس الہڑ مٹھیار کی طرح جسکا رشتہ دیکھنے کوئی گھر آئے تو شرما کر چھپ جائے۔ تیز ہوا چل رہی تھی برف باری جاری تھی ایک طرف کے ٹو اور دوسری طرف براڈ پیک درمیان میں ہم، اندازہ لگا سکتے ہیں کتنی ٹھنڈ ہوگی۔
شام کا کھانا شام ہوتے ہوتے کھا لیا تھا اور اب ہم فارغ تھے کل صبح تک۔
پورٹرز نے کسی گروپ کے چھوڑی ہوئی لکڑی کی کریٹیں جمع کیں اور الاو روشن کرلیا۔ بڑا عجیب منظر تھا۔ اوپر سے ہلکی ہلکی برف باری ہورہی تھی نیچے زمین برف کی تھی اور درمیان میں بڑا سا الاو روشن کرکے ہم اس کے گرد بیٹھے تھے۔ آہستہ آہستہ مٹی کے تیل کے خالی کین جمع ہونا شروع ہوگئے اور پھر تھوڑی دیر بعد جس کے ہاتھ میں جو کچھ تھا بجا رہا تھا اور جس کے گلے میں جو بھی سر تھا چلا چلا کر گانے لگا۔ یہ بین الاقوامی قسم کی محفل تھی۔ پورٹرز سٹاف والے بلتی گانا شروع کرتے۔ بیچ میں ایک دو شعر اردو کے آجاتے، پھر ایک آدھ شعر پنجابی کا، میں بیچ میں پشتو کی رباعی اور سرائیکی ڈوہڑے گانا شروع کردیتا اور آسٹریلین سیاح انگریزی کے شعر جوڑ دیتے۔ یہ فری سٹائل ریسلنگ کے طرز کی محفل تھی مطلب جس کو جو آتا تھا اسے پوری اجازت تھی کہ جہاں سے دوسرے بندے کا گانا ختم ہو اپنا شروع کردے۔ ساتھ ساتھ قہقہے گونج رہے تھے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ اس طرح گانے بجانے سے موسم صاف ہوجاتا ہے۔ پتا نہیں موسم سے مراد اندر کا موسم تھا یا باہر کا کیونکہ تھوڑی دیر بعد نہ صرف باہر کا موسم صاف ہوگیا بلکہ اندر کا موسم بھی صاف ہوگیا۔ جب گا گا کر اور ہنس ہنس کر بے دم ہوگئے تو سب نے اٹھ کر آگ کے گرد گول دائرے میں ناچنا شروع کردیا۔ اس ناچ میں بیک وقت بہت سی ثقافتیں اپنے اپنے انداز میں ناچ رہی تھیں۔ اگر کوئی آتش پرست دیکھتا تو یقینا" یہی سمجھتا کہ آگ کے پجاری آگ دیوتا کی پوجا میں مصروف ہیں۔ جب ناچ ناچ کر بھی تھک گئے اور جتنی بھی جلنے کے قابل چیزیں تھیں سب جلا چکے اور آگ کے تپش کم ہوگئی تو ہمارا جوش بھی آہستہ آہستہ ٹھنڈا پڑ گیا۔
کچھ دیر وہیں بیٹھے رہے پھر آہستہ آہستہ اپنے اپنے خیموں کی طرف کھسکنے لگے۔ موسم صاف ہوا تو براڈ پیک کی چوٹی کے قریب روشنیاں نیچے کی طرف حرکت کرتی ہوئی دکھائی دینے لگیں۔ جسکا مطلب تھا کہ جو گروپ چوٹی سر کرنے گیا تھا وہ اب چوٹی سے کافی نیچے پہنچ گیا تھا۔
خیموں میں جاکر لیٹے تو تھوڑی دیر بعد برفباری دوبارہ شروع ہوگئی۔
صبح ہم نے کے ٹو میموریل جاکر ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا جنہوں نے اب تک کے ٹو سر کرتے ہوئے جانیں گنوائی ہیں اور اس بعد واپسی کا سفر شروع کرنا تھا۔
جاری ہے 

کے ‏ٹو ‏نامہ ‏قسط ‏8

#کے_ٹو_نامہ قسط - 8
گورو ٹو سے کونکورڈیا
16 جولائی  2020

صبح اک بار پھر وہی روزمرہ کا معمول سامان باندھا گیا ناشتہ تیار ہوا اور ناشتہ کرکے ایک بار پھر حسب معمول سفر شروع ہوا۔ لیکن آج خوشی معمول سے کہیں زیادہ تھی۔ آج ہم کونکورڈیا پہنچ رہے تھے۔ کونکورڈیا یوں سمجھ لیں کہ قراقرم کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ یہاں سے ہر طرف راستے نکلتے ہیں اور آٹھ ہزار میٹر سے بلند چار چوٹیوں تک رسائی کیلئے ہاں سے ہوکر ہی گزرنا پڑتا ہے بلکہ بسا اوقات یہاں شب بسری کرنی پڑتی ہے۔
سفر آج بھی مشکل تھا بلکہ روزمرہ سے زیادہ مشکل تھا اور اوپر سے سات دن کے تھکاوٹ الگ لیکن آج جذبے جوان تھے۔ منزل قریب آرہی تھی۔ کونکورڈیا کو خوابوں میں دکھا تھا چشم تصور سے دیکھا تھا اپنی طرف سے کئی نقشے بنائے تھے لیکن پہلی بار حقیقتا" وہ جگہ دیکھنی تھی اور وہاں دو راتیں گزارنی تھیں اور وہاں سے آسمان کو چھوتی ہوئی چوٹیاں دیکھنی تھیں۔
جذبات کی کیفیت کچھ عجیب سی تھی۔ گلیشئیر پر چلتے، چڑھتے اور اترتے آخر کار بارہ بجے کے قریب خیمے نظر آنے لگے۔ گائیڈ نے بتایا کہ جہقں خیمے لگے ہیں وہ کونکورڈیا ہے۔ تو پھر کے ٹو کہاں ہے؟ میں نے بے چین ہو کر پوچھا۔ اس نے بتایا کہ وہ کونکورڈیا پہنچ کر بائیں طرف دیکھیں گے تو کے ٹو اور براڈ پیک نظر آئیں گے۔ سامنے جی ون اور جی ٹو البتہ نظر آرہے تھے۔ دوپہر کا کھانا ملتوی کرلیا تھا اور فیصلہ کیا کہ کیمپ پہنچ کر روٹی کھائیں گے۔ اور پھر ڈیڑھ بجے ہم کیمپ پہنچ گئے۔ بائیں طرف مڑ کر دیکھا تو کے ٹو بالکل سامنے اور مکمل صاف نظر آرہا تھا۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کے ٹو آپ کو بالکل صاف اور مکمل نظر آئے۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ نہ صرف کے ٹو بلکہ براڈ پیک کی دونوں چوٹیاں بھی بالکل صاف اور واضح دکھائی دے رہی تھیں۔ 
کونکورڈیا میں میلے کا سا سماں تھا۔ یہاں ہر قسم کے سیاح اور کوہ پیما آتے جاتے رکتے ہیں۔ دنیا کے ہر براعظم سے لوگ یہاں جمع تھے اور سب ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراہٹوں کا تبادلہ کر رہے تھے۔ پہاڑوں کے عاشق وہ واحد مخلوق ہے جو اگرچہ مشترکہ محبوب کی وجہ سے رشتے میں اک دوسرے کے رقیب ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ایک دوسرے سے بلا امتیاز رنگ، نسل، قومیت اور زبان کے بہت محبت کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو میں بس اک قدر مشترک ہوتی ہے اور وہ پہاڑوں کی محبت ہوتی ہے۔
ہاں پہنچ کر اس لگ رہا تھا جیسے گھر پہنچ گئے ہوں حالانکہ مشکل سفر ابھی باقی تھا۔ کھانا تیار ہوا تو کھانا کھایا اور اسکے بعد کیمپ کے طول و عرض کو ناپنا شروع کردیا۔ عصر کے وقت ٹھنڈی ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں اور سردی اتنی تھی کہ گرم پانی سے بھی وضو کرتے ہوئے پانی کی حرارت صرف پہلی بار جلد پر محسوس ہوتی اسکے بعد فورا" گیلی جگہ برف کی طرح ٹھنڈی ہوجاتی۔
تھکاوٹ کا احساس بالکل ختم چکا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کوئی سفر کیا ہے نہ ہو۔
کونکورڈیا دو بڑے گلیشئیرز "بلتورو" اور "گوڈون آسٹن" کا سنگم ہے۔ یہاں جس طرف سے ہم آئے تھے یہ اسکولی اور شگھر کا راستہ ہے اور بالکل سامنے آگے بڑھتے رہیں تو علی کیمپ اور وہاں سے غونڈوغورو پاس سے گزر کر براستہ ہوشے خپلو جاتے ہیں۔ بائیں طرف جو گلیشئیر ہے یہ آپ کو براڈپیک بیس کیمپ اور اس سے گزر کر کے ٹو بیس کیمپ لے جاتا ہے۔ اور علی کیمپ کی طرف سدھا جانے کی بجائے تھوڑا سا بائیں ہاتھ جائیں تو جی ون اور جی ٹو بیس کیمپ پہنچ جاتے ہیں۔ گویا کونکورڈیا ان سارے پہاڑوں کا مرکزی نقطہ ہے۔ اسکا نام کونکورڈیا انگلش کوہ پیما الیسٹر کراولی نے 1902 میں رکھا جب وہ کےٹو سر کرنے کی مہم پر آئے تھے۔ اسکی سطح سمندر سے بلندی 4691 میٹر ہے۔ یہاں کا شاپنگ مال ایک خیمہ ہے جس میں ضرورت کے چیزیں مثلا" آٹا، چاول، نمک مصالحہ جات، سگریٹ،مٹی کاتیل اور گھی وغیرہ دستاب ہے۔ (اس دوکان اور اور اس کے دلچسپ مالک کا تفصیلی ذکر قسط 10 میں آئے گا)۔
اگلے دن ہم نے کے ٹو بیس کیمپ جانا تھا۔ موسم ابھی تک صاف تھا اور ساتھ دے رہا تھا۔ راستے میں آتے ہوئے ایک جگہ آرام کرنے کے جب رکے تو دوسرے گروپ کے گائیڈ عباس نے اوپر دیکھا اور آسمان پر قوس قزح کی طرح کے دو دائروں کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا کہ یہ کوئی اچھی علامت نہیں۔ میں نے کہا کہ اس میں کیا برائی ہے؟ کہنے لگا اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران موسم خراب ہوگا اور برف باری ہوگی۔ میں نے کہا بادل تو کہین نظر نہیں آرہے۔ کہنے لگا اللہ کرے موسم خراب نہ ہو لیکن میرا تجربہ یہی کہتا ہے۔ اسکی بات کی وجہ سے میں تھوڑا کر مند تھا اور ایک آنکھ سے بار بار آسمان کا جائزہ لیتا رہا۔
شام کے فورا" بعد رات کا کھانا کھایا اور اسکے بعد اگلے دن کی منصوبہ بندی ہونے لگی۔ گائیڈ نے دبے لفظوں میں کے ٹو بیس کیمپ سے واپس آنے کے بعد اسی راستے سے جس سے ہم آئے تھے، واپس جانے کا ذکر کیا۔ میں نے کہا ہم غونڈوغورو پاس کراس کرکے ہوشے جائیں گے اور وہاں سے خپلو جیسے کہ منصوبہ تھا۔ کہنے لگا وہ راستہ بہت خطرناک ہے اور موسم بھی خراب ہوجائیگا تو یہ نری خودکشی اور پاگل پن ہے۔ میں نے کہا یہاں تک آنا کونسا سمجھداری کا کا کام ہے اور سمجھدار لوگ پہاڑوں آکر کیوں خوار ہوں گے۔ لہذا یہ تو ثابت شدہ ہے کہ یہاں سب پاگل ہی اکٹھے ہوئے ہیں۔ وہ مزید کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن میں نے اس بات کاٹ دی اور کہا کہ ابھی دو دن اور دو راتیں باقی ہیں اسکے بعد دیکھئں گے کہ کیا کرنا ہے۔ ابھی سے کوئی منحوس بات نہ کرنا کیونکہ منحوس باتیں اکثر سچ ثابت ہوتی ہیں۔ پرسوں رات کو اس موضوع پر بات ہوگی جب ہم کے ٹو بیس کیمپ سے واپس آجائیں گے تب تک اس موضوع پر دوبارہ کوئی بات نہیں ہوگی۔
اس بعد ہم اپنے اپنے خیموں میں چلے گئے۔

جاری ہے 

کے ‏ٹو ‏نامہ ‏قسط ‏2 ‏

اسکولی سے جولا کیمپ (حصہ اول)

اسکولی کیمپ وہ آخری مقام ہے جہاں تک کوئی گاڑی جا سکتی ہے۔ اس مقام سے آگے پیدل یا خچر کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اسکولی میں کافی ٹھنڈ پڑ رہی تھی۔ ایک چھوٹا سا ہوٹل ایک دوکان اور ساتھ کیمپنگ ایریا۔ ہمارا کچن ٹینٹ نہیں لگا تھا اسلئے گائیڈ نے کہا کہ کھانا ہوٹل سے ہی کھائیں گے۔ اس نے کھانے کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتا دیا کہ میں تو دال خورا ہوں لیکن وہ سمجھے شاید میں تکلف برت رہا ہوں اسلئے اس نے چکن کڑاہی کا آرڈر دے دیا۔ ہم ایک بغلی کمرے میں جا کر بیٹھ گئے۔ کمرے کے اندر قدرے گرم ماحول بہت بھلا لگ رہا تھا۔ ایک کونے میں کمبل اور رضائیوں کا ڈھیر پڑا ہوا تھا۔ ایک رضائی بچھا کر اور ایک کمبل اوپر ڈال کر دبک کر بیٹھ گئے۔ یہ ٹھنڈے موسم کیساتھ پہلا تعارف تھا۔ اگرچہ سکردو میں بھی موسم کافی بہتر تھا لیکن وہاں پنکھا ہلکی رفتار سے چلا کر کمبل ڈالنا پڑتا تھا۔ یہاں سردی قدرے زیادہ تھی۔ آدھے گھنٹے کے انتظار کے بعد کھانا آگیا۔ تندور کی گرم روٹیوں کی خوشبو مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ اس مہک نے بھوک کو اور بھڑکایا اورمیں نے اتنا کھانا کھایا جتنا کھا سکتا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد دوکان کی طرف گئے وہاں سے کچھ چھوٹی موٹی چیزیں مثلا اضافی جرابیں، اونی دستانے، سرسوں کا تیل کچھ ٹارچ کیلئے اضافی سیل وغیرہ خرید لئے۔ کچھ خشک کھجوریں بھی لے لیں کہ شاید آگے کام آجائیں۔ تب تک ہمارے ٹینٹ تیار ہوچکے تھے اسلئے ٹینٹ میں جاکر لیٹ گئے اور صبح کا بے چینی سے انتظار کرنے لگے۔ سلیپنگ بیگ جو بطور خاص کوئٹہ سے لیا تھا پہلی بار کھولا۔ بنانے والے کا دعویِ ِتھا کہ یہ منفی تیس درجے فارن ہائٹ تک کھلے آسمان تلے کام کر سکتا ہے لیکن اسمیں گھسنے کے بعد اندازہ ہوا کی شاید اس سے بھی زیادی سردی برداشت کرلیگا۔ ابھی اسکی ایک پرت استعمال کی تھی اور تھوڑی دیر بعد پسینے آنے لگے اسلئے اندر سے نکل کر اسکے اوپر ہی سوگیا۔ جب سردی لگنے لگی تو قمیض اتار کر پھر اندر گھس گیا۔ وہ تو اچھا ہوا نیند آگئی ورنہ نہ جانے کیا کیا اتر جانا تھا۔ صبح سویرے جب باہر کسی گروپ کے گائیڈ کی پہلی گڈ مارننگ سنائی دی تو آنکھ کھل گئی۔ باہر نکل کر دیکھا تو آسمان بالکل صاف تھا۔ یہ ایک اچھا شگون تھا۔ سامان سمیٹ کر کچن ٹینٹ پہنچے جہاں ناشتہ تیار تھا۔ ناشتہ کرکے فارغ ہوئے تو سامان کو پورٹرز کے حساب سے رکسیک میں بند کرکے اسکے بوجھ بنائے گئے۔ حکومت پاکستان کے قوانین کے مطابق ایک پورٹر کو زیادہ سے زیادہ پچیس کلو وزن دیا جا سکتا ہے۔تاہم پورٹر سردار ہر پورٹر کو کم سے کم تیس کلو وزن دیتا ہے۔ اسطرح چھ پورٹرز کا بوجھ پانچ پورٹر اٹھالیتے ہیں اور انہیں ایک پورٹر کے پیسے بچ جاتے ہیں۔ یعنی یہ ایک طرح کا استحصال ہے جو جاری ہے۔ پورٹرز اسکے خلاف آواز بلند نہیں کر سکتے کیونکہ صبح سویرے آس پاس کے دیہاتوں سے بہت سے پورٹر بوجھ کی تلاش میں وہاں آجاتے ہیں اور جس کو بوجھ یعنی مزدوری مل جائے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے۔ لیکن پورٹر کے بوجھ کا کل وزن تیس سے بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ پورٹرز اپنے کھانے پینے کا سامان یعنی راشن اور برتن وغیرہ ساتھ لے جاتے ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق ہر پورٹر لگ بھگ پینتیس کلو وزن اٹھا کر چلتا ہے۔ پورٹرز کے پاوں میں عام سی چپل یا ربڑ کے بوٹ ہوتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اچھے جوتے ہوں تو کسی سیاح کی طرف سے دھان کردہ پرانے بوٹ یا لنڈے سے خریدے ہوئے جوگرز ہوتے ہیں۔ ہمارا سامان کچھ پورٹرز نے اٹھا لیا اور کچھ دوسرے گروپ کا وزن اٹھانے والے خچروں پر لاد دیا گیا۔ خچر تین پورٹرز کا بوجھ اٹھاتا ہے یعنی ستر سے اسی کلو کے قریب جبکہ گھوڑا دو بوجھ اٹھا لیتا ہے جو پچاس سے ساٹھ کلو کے قریب بنتا ہے۔ ہمارا وہ گائیڈ جسکا اندراج کاغذات میں ہوا تھا یہیں سے واپس چلا گیا اور ہمیں اسی گائیڈ کے حوالے کردیا جسکو لائسنس نہ ہونے کی وجہ سے آرمی والوں نے رد کردیا تھا۔ میں نے اسکا نام نان کسٹم پیڈ گائیڈ رکھ دیا۔ ہم نے اپنا وہ تمام ضروری سامان جو راستے میں ضرورت پڑ سکتا تھا اپنے اپنے بیک پیک میں ڈالا اور ٹریک کی طرف بڑھ گئے۔ ہمارے پورٹرز باورچی اور گائیڈ کچن اور راشن پیک کرنے میں لگے ہوئے تھے جنہوں نے بعد میں ہمارے پیچھے چلنا تھا۔ ہماری رہنمائی کیلئے ایک پورٹر آگے چل رہا تھا ہم اسکے پیچھے ہو لئے۔ اسکولی سے آدھا گھنٹا چلنے کے بعد راستہ دائیں طرف مڑگیا جہاں ایک خوبصورت عمارت نظر آرہی تھی۔ وہاں پہنچ کر پتا چلا کہ قراقرم نیشنل پارک کی حدود یہاں سے شروع ہوتی ہیں اور یہاں پارک میں انٹری  کی رجسٹریشن ہوتی ہے اور اسکی فیس ادا کی جاتی ہے۔ یہاں تھوڑی دیر سستانے کر تازہ دم ہوئے اتنے میں گائیڈ بھی پیچھے آن پہنچا۔ فارم بھر کر دستخط کردئیے اور گروپ کی فیس تین ہزار روپے گائید نے ادا کردی۔ پاکستانیوں کیلئے گروپ کی فیس تین ہزار روپے ہے چاہے ممبران جتنے بھی ہوں۔ غیر ملکی سیاحوں کیلئے یہ فیس فی کس کے حساب سے لی جاتی ہے اور فیس زیادہ ہے۔ یہاں سے فارغ ہوکر ہم عقبی دروازے سے نکل کر ایک بار پھر چل پڑے۔ راستے میں چلتے ہوئے گائیڈ نے بتایا کہ گھر سے میں اپنے علاقے کا خاص تحفہ لایا ہوں۔ گائیڈ کا گھر اسکولی کیمپ سے ایک گھنٹہ پیدل مسافت پر تھا اسلئے رات کو وہ اجازت لیکر شب گزاری کیلئے گھر چلا گیا تھا۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ گزشتہ رات میرے بہنوئی نے چوری چھپے ایک مارخور کا شکار کیا تھا۔ ہمارے یہاں شکار کا گوشت سب رشتہ داروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ میں نے گوشت کا یک حصہ آپ لوگوں کیلئے الگ کروایا تھا اور رات کے کھانے میں وہی گوشت پکائیں گے۔ ٹریکنگ اور ہائیکنگ میں دوپہر کا کھانا واجبی سا ہوتا ہے۔ صبح ناشتے کے وقت ہی بنا کر پیک کرلیا جاتا ہے اور دوپہر میں کہیں رک کر کھا لیا جاتا ہے۔ باقی سامان منزل پر پہنچ کر ہی کھولا جاتا ہے تاہم چائےاور سوپ کے برتن الگ رکھے جاتے ہیں اور دوپہر میں سوپ اور چائے بنائی جاتی ہے۔ راستہ ہموار تھا کوئی خاص اتار چڑھاو نہیں تھے اسلئے چلنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آرہی تھی۔ موسم بالکل صاف تھا اور بہت تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی جسکی وجہ سے گرم جیکٹ میں پسینے آنا شروع ہوگئے۔ ٹریکنگ کیلئے گرم جیکٹ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اور جیکٹ سب سے اچھی وہی ہوتی ہے جو گرم ہونے کے ساتھ ساتھ وزن میں سب سے ہلکی ہو۔ سب سے مناسب زداون جیکٹ ہوتی ہے۔ اس مِیں پرندوں کے پر بھرے ہوتے ہیں اور بہت ہلکی لیکن انتہائی گرم ہوتی ہے۔ جسم کی گرمی سے اسکے اندر ہوا پھیل جاتی ہے اور اسکی موٹائی میں اضافی ہوجاتا ہے۔ عام جیکٹ سے یہ کم سے کم پانچ گنا اور لیدر جیکٹ سے دس بیس گنا ہلکی ہوتی ہے۔ عموما لوگ گرمی محسوس کرتے ہی جیکٹ اتار دیتے ہیں جبکہ ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہئے۔ ٹھنڈی ہوا لگنے کی وجہ سے پٹھے اکڑ جاتے ہیں اور سفر میں آپ کو بہت دشواری پیش آسکتی ہے۔ چلتے ہوئے جسم جتنا گرم رہے اتنا ہی اچھا ہے۔ پسینہ نکلنے سے اگر چہ پیاس زیادہ لگتی ہے لیکن پانی کی بوتلیں ساتھ ہوتی ہیں جو اگر خالی بھی ہوجائیں تو راستے میں کسی چشمے یا جھرنے سے بھری جا سکتی ہیں اسلئے کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ایک اور بات جو میں نے ذاتی تجربے سے اخذ کی ہے وہ یہ کہ چلتے ہوئے کم سے کم رکیں اگر رک جائیں تو بیٹھنے سے حتی الوسع گریز کریں اور اگر بیٹھنا بہت ضروری ہو تو زیادہ دیر نہ بیٹھیں۔ زیادہ دیر بیٹھنے کے بعد پٹھوں میں کھچاو محسوس ہوتا ہے اور دوبارہ چلنا کافی مشکل ہوجا تا ہے۔ چلتے ہوئے سانس پھولنے لگے تو رفتار آہستہ کرلیں اور جب سانس بحال ہوجائے تو دوبارہ معمول کی رفتار سے چلتے رہیں۔ اپنے معمول کی رفتار سے تیز یا آہستہ چلنے سے تھکاوٹ جلدی ہوجاتی ہے۔ بارہ بجے کے قریب ہمیں درختوں کا ایک جھنڈ دکھائی دینے لگا۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہم کچھ دیر کیلئے یہیں پڑاو ڈالیں گے اور دوپہر کا کھانا کھائیں گے اور پھر اپنا سفرجاری رکھیں گے۔ درخت کے نیچے اپنا بیک پیک رکھ کر اور جیکٹ بوٹ وغیرہ اتار کر تھوڑی دیر سستانے سے جو سکون ملا وہ سکون پہلے کبھی محسوس نہیں ہوا۔ بوتل کا پانی دھوپ کی وجہ سے گرم ہوچکا تھا اور اس سے پیاس نہیں بجھ رہی تھی۔ میں نے اپنے بیگ سے ایک لمبی ڈوری نکالی اور بوتل کیساتھ باندھ کر ندی میں ڈال دی اور ایک جھاڑی کیساتھ باندھ دیا۔ یہ ندی اوپر کسی گلیشئر سے آرہی تھی اور اسکا پانی بہت ٹھنڈا تھا۔ میں نے اسے بطور فرج استعمال کیا۔ تھوڑی دیر بعد نوڈلز سوپ تیار ہوکر آگیا۔ اور ساتھ پراٹھے، انڈےاور پنیر کی ڈلیاں۔ کچھ کھجوریں اور خشک خوبانیاں بھی ساتھ تھیں۔ اسکے بعد چائے کا دور چلا۔ تقریبا ایک گھنٹا سستانے اور کھانے پینے کے بعد سفر ایک بار پھر شروع ہوگیا۔ ہم خوشی خوشی چل پڑے اس بات بے خبر کہ آگے حادثہ منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے 


ye zabta hai ki baatil ko mat kahun baatil | ضابطہ | Habib Jalib

یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازوئے قاتل یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ د...