اتوار، 17 جنوری، 2021

laghzishon se mawara tu bhi nahin | Syed Arif | Sad Poetry


لغزشوں سے ماورا تو بھی نہیں میں بھی نہیں دونوں انساں ہیں خدا تو بھی نہیں میں بھی نہیں تو مجھے اور میں تجھے الزام دیتا ہوں مگر اپنے اندر جھانکتا تو بھی نہیں میں بھی نہیں مصلحت نے کر دیا دونوں میں پیدا اختلاف ورنہ فطرت کا برا تو بھی نہیں میں بھی نہیں چاہتے دونوں بہت اک دوسرے کو ہیں مگر یہ حقیقت مانتا تو بھی نہیں میں بھی نہیں جرم کی نوعیتوں میں کچھ تفاوت ہو تو ہو درحقیقت پارسا تو بھی نہیں میں بھی نہیں رات بھی ویراں فصیل شہر بھی ٹوٹی ہوئی اور ستم یہ جاگتا تو بھی نہیں میں بھی نہیں جان عارفؔ تو بھی ضدی تھا انا مجھ میں بھی تھی دونوں خود سر تھے جھکا تو بھی نہیں میں بھی نہیں

na puchh kaise guzarti hai tere hijr ki sham || Mohsin Naqvi | نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام


اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام

نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام

یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مری

کہ شاخ شاخ اترتی ہے تیرے ہجر کی شام

اجاڑ گھر میں کوئی چاند کب اترتا ہے

سوال مجھ سے یہ کرتی ہے تیرے ہجر کی شام

مرے سفر میں اک ایسا بھی موڑ آتا ہے

جب اپنے آپ سے ڈرتی ہے تیرے ہجر کی شام

بہت عزیز ہیں دل کو یہ زخم زخم رتیں

انہی رتوں میں نکھرتی ہے تیرے ہجر کی شام

یہ میرا دل یہ سراسر نگارخانۂ غم

سدا اسی میں اترتی ہے تیرے ہجر کی شام

جہاں جہاں بھی ملیں تیری قربتوں کے نشاں

وہاں وہاں سے ابھرتی ہے تیرے ہجر کی شام

یہ حادثہ تجھے شاید اداس کر دے گا

کہ میرے ساتھ ہی مرتی ہے تیرے ہجر کی شام


محسن نقوی

ہفتہ، 16 جنوری، 2021

Tere badan se jo chhu kar idhar bhi aata hai | Mohsin Naqvi | ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے


ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے

مثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے

تمام شب جہاں جلتا ہے اک اداس دیا

ہوا کی راہ میں اک ایسا گھر بھی آتا ہے

وہ مجھ کو ٹوٹ کے چاہے گا چھوڑ جائے گا

مجھے خبر تھی اسے یہ ہنر بھی آتا ہے

اجاڑ بن میں اترتا ہے ایک جگنو بھی

ہوا کے ساتھ کوئی ہم سفر بھی آتا ہے

وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا

کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے

جہاں لہو کے سمندر کی حد ٹھہرتی ہے

وہیں جزیرۂ لعل و گہر بھی آتا ہے

چلے جو ذکر فرشتوں کی پارسائی کا

تو زیر بحث مقام بشر بھی آتا ہے

ابھی سناں کو سنبھالے رہیں عدو میرے

کہ ان صفوں میں کہیں میرا سر بھی آتا ہے

کبھی کبھی مجھے ملنے بلندیوں سے کوئی

شعاع صبح کی صورت اتر بھی آتا ہے

اسی لیے میں کسی شب نہ سو سکا محسنؔ

وہ ماہتاب کبھی بام پر بھی آتا ہے

ye zabta hai ki baatil ko mat kahun baatil | ضابطہ | Habib Jalib

یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازوئے قاتل یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ د...