جمعہ، 2 نومبر، 2018

گستاخی

آج بابا جی کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے چہرے کو دیکھتے ہی میرا موڈ بھانپ گئے۔ پوچھنے لگے خیریت ہے آج تیور کچھ بدلے بدلے لگ رہے ہیں۔
میرے نبی کے گستاخ کو آزاد کردیا عدالت نے میرا ایمان اور اسلام دونوں خطرے میں ہیں۔ باباجی مسکرا کر بولے کیوں فیصلہ تم نے کیا ہے؟ عرض کیا نہیں وہ تو تین ججوں نے کیا ہے۔ تو پھر تمہارا ایمان کیوں خطرے میں ہے؟ اگر تم کچھ غلط کرتے ہو تو اسکا جواب قیامت کے دن میں دوں گا یا تم دوگے؟ باباجی نے سوالیہ نظروں سے مجھے گھورنا شروع کردیا۔ جی وہ تو مجھے ہی دینا پڑے گا، میں نے عرض کیا۔ تو پھر ججوں کے اعمال کا جواب تم کیوں دوگے اگر بالفرض انہوں نے ایمانداری سے فیصلہ نہیں دیا؟ میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اسلئے میں نے انکی بات نظر انداز کردی اور پرجوش لہجے میں بولا کہ اس سے اسلام کا کتنا نقصان ہورہا ہے آپکو اندازہ بھی ہے؟ باباجی ایک بار پھر اپنے شفیق انداز میں مسکرائے اور کہنے لگے بات میں وزن ہے مذہب کے حوالے سے پریشانی تو بنتی ہے۔ جب ایک انسان کا مذہب خطرے میں ہو اسکا بے چین ہونا فطری بات ہے۔ انکی تائید سن کر میرا حوصلہ بڑھ گیا اور کچھ کہنے کیلئے منہ کھولنے لگا تھا کہ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔ پھر کہنے لگے کہ مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ جس مذہب کو ابولہب اور ابوجہل جیسے مکے کے سردار اس وقت ختم نہیں کرسکے جب اسکے ماننے والے بمشکل آٹھ دس لوگ تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے پھر جب ایک شہر مدینہ میں بمشکل تین سو تیرہ کے لشکر پر ہزار جنگجووں کے حملے میں بھی اسکا کچھ نہ بگڑا اور قیصر و کسریٰ بھی اسے نہ مٹا سکے اس عظیم مذہب کو ایک کمزور سی خاتون سے اتنا خطرہ کیسے ہوسکتا ہے؟ وہ ایک بار پھر مجھے دلیل سے مات دے چکے تھے اس لئے میں نے پینترا بدلا۔ عرض مجھے ان سب چیزوں سے کوئی غرض نہیں لیکن اگر روز قیامت میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ میری شان میں گستاخی ہوئی تو تم نے کیا کیا تو پھر میں کیا جواب دوں گا؟ کونسا منہ دکھاؤں گا اس آقا کو جو میرے لئے رات رات بھر روتے ہوئے اللہ کے حضور سجدے میں پڑے رہتے تھے کہ اللہ میرے اس گنہگار امتی کا حساب مجھ سے لے لو اسکو کچھ نہ کہنا۔ کیا میں ایسے نبی کی شان میں گستاخی پر نہ تڑپوں؟
باباجی نے بڑے حوصلے سے میری بات سنی انکی آنکھوں میں آنسو تھے۔ کہنے لگے بنتا ہے بالکل بنتا ہے۔ اب پہلا سوال تو یہ ہے کہ تم نے اس خاتون کو گستاخی کرتے دیکھا ہے یا سنی سنائی بات ہے؟ عرض کیا دیکھا تو نہیں۔ پھر کہنے لگے اچھا تو تم نے مکمل تحقیق کی ہوگی جن گواہوں کے سامنے گستاخی کی انکے بارے میں بھی تحقیق کی ہوگی کہ وہ واقعی سچے ہیں اور انکی باتوں کو عقل دلیل اور منطق کی کسوٹی پہ رکھ کر پرکھا ہوگا اور پھر یقین آگیا ہوگا کہ وہ واقعی گستاخ ہے تب تمہیں اتنا غصہ ہے؟ عرض کیا ایسا تو کچھ نہیں کیا۔ اچھا تو سپریم کورٹ کے ججوں نے کسی سے سنا ہوگا کہ اس نے گستاخی نہیں کی اور انہوں نے عجلت میں فیصلہ دے دیا ہوگا؟ عرض کیا نہیں وہ تو کئی سال سے کیس سن رہے تھے۔ اب باباجی تیوری چڑھا کر بولے کہ اچھا تم نے کوئی تحقیق نہیں کی اور ملک کی سب سے بڑی عدالت کے تین ججوں نے کئی سال لگا کر اس کیس کو سنا اور اب تم ٹھیک ہو اور وہ غلط ہیں؟ یہ کونسی منطق ہے ذرا وہ منطق مجھے بھی سمجھاو تاکہ اپنے بنی کے سامنے میں بھی سرخ رو ہونے کا شرف حاصل کرلوں۔ میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
مجھے خاموش پاکر شاید باباجی کو ترس آگیا۔ نرم لہجے میں بولے بیٹا ان سب باتوں کا جواب تو رحمت دو عالم پہلے ہی دے چکے ہیں اگر تمہیں نہیں پتا یہ تمہاری کمزوری ہے۔ جب اسلام کے ابتدائی ایام تھے اور مسلمان بہت کمزور تھے تو ابوجہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی۔ اور گستاخی اس درجہ کہ میں وہ الفاظ اپنی زبان پر لانا اور دہرانا بھی کفر سمجھتا ہوں۔ جب سید الشہداء امیر حمزہ کو خبر ملی ابھی وہ مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے تو بجائے گھر جانے کے سیدھے ابوجہل کے پاس گئے بغیر سوال جواب کے کمان اس زور سے اسکے سر میں ماری کہ اسکا سر پھٹ گیا۔ اور پھر للکار کر پورے مجمعے کو مخاطب کرکے کہا کہ اگر کسی نے میرے بھتیجے محمد کے ساتھ آئندہ سروکار رکھا تو اسکا انجام اس سے بھی بدتر ہوگا۔ پھر اپنے بھتیجے کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں بھتیجے مجھے پتا چلا کہ آج دن کو کیا ہوا تھا۔ اور میں نے آپکی ہتک کا بدلہ لے لیا اور آپکے دشمن کا سر پھاڑ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتا ہے جواب میں کیا کہا؟ فرمانے لگے مجھے زیادہ خوشی اس بات کی ہوتی اگر آپ یہ کہہ دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور پھر حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنے محبوب بھتیجے اور اسکے رب دونوں کو راضی کرلیا۔
بیٹا حمزہ تو خو قسمت تھے۔ جب یہ واقعہ ہوا وہ اسی دنیا میں تھے۔ لیکن ہم اتنے خوش قسمت نہیں ہیں۔ جب ہمارا سامنا اپنے نبی سے ہوگا تو ہمارے اعمال نامے بند ہوچکے ہوں گے۔ اور تب جب اللہ کے رسول یہ فرمائیں گے کہ مجھے اس سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوتی کہ تم میری ایک سنت کو زندہ کرلیتے تو ہم کیا جواب دیں گے؟ کیا ہم سب مسلمان ہمہ وقت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دل آزاری میں مصروف نہیں؟ ہم وہ سب کام کرتے ہیں جن سے انہوں نے منع کیا اور ان سب کاموں کو چھوڑ دیا جنکا انہوں نے حکم دیا۔ کبھی اس پر بھی سوچا؟
میرے پاس جواب میں کہنے کیلئے کچھ نہیں تھا سوائے میرے ان سب برے اعمال کے جن پر اللہ نے پردہ ڈالا ہوا ہے اور جو اگر لوگوں کو معلوم ہوجائیں تو مجھ پر تھوکنا بھی گوارا نہ کریں۔

ہفتہ، 20 اکتوبر، 2018

تھام کر ہاتھ چلا عشق ہو رہبر جیسے

ہم   نہ   تھے    طالع   مسعود   سکندر   جیسے
اور  دنیا   بھی   نہ   چھوڑی   ہے   قلندر جیسے
جب تیرے در  سے  اٹھائے  گئے   محسوس  ہوا
آسماں   زور   سے   پٹخا   ہو   زمیں  پر جیسے
آنکھ   چھلکی  ہے  تمہیں دیکھ کے حیران نہ ہو
چودھویں  رات   کو  بپھرا   ہو  سمندر   جیسے
کیسے گزرے ہیں شب و روز بچھڑ کر تم  سے
صبح   تا   شام   چلے   جسم   پہ  خنجر جیسے 
میں بھی پیاسا تھا ذرا  دید  کی  خواہش  کرکے
حلق   میں   تیر   لگا  ہے  علی اصغر  جیسے 
سیف معلوم نہ تھے دشت کے  رستے   پہلے
تھام  کر  ہاتھ   چلا   عشق   ہو   رہبر  جیسے



سیف اللہ خان مروت

چند رشتے مٹا رہا ہوں میں

  چند     رشتے    مٹا رہا  ہوں میں
ضبط    کو     آزما    رہا  ہوں  میں
خود  کو خود سےادھیڑ   بیٹھا   تھا
خود کو  خود  سے ملا رہا ہوں میں
رشتے ناطے ہیں سارے دو پل کے
بخدا   سچ   بتا    رہا     ہوں    میں 
جان   و   دل   کہ  سدا رہے مرہون
ہار   کر   روح    آرہا    ہوں    میں 
منہ    کا     اب    ذائقہ   بدلنے   کو
شوق   سے  دھوکہ کھا رہا ہوں میں
تم    کو    مبروک    ہو   نئی    دینا 
تیری دنیا سے  جا   رہا   ہوں    یں
قصر   خوابوں   کا   نا مکمل    تھا
اب   مکمل     ڈھا   رہا   ہوں   میں 


سیف اللہ خان مروت

آگہی میں عذاب کتنے ہیں



آگہی    میں    عذاب     کتنے   ہیں
بے   خودی   میں حساب کتنے ہیں
درد     غصہ       حیا       پریشانی 
ایک   رخ   پر   نقاب    کتنے   ہیں
اک   ذرا    نیند    کی   محبت  میں
تم نے کھوئے جو خواب کتنے ہیں
گھر  میں  تنہائیوں   کا  ڈیرہ   ہے
ہم   بھی   خانہ  خراب  کتنے  ہیں
دشت   بتلا   کہ تھک گیا ہوں میں
اور  آگے    سراب     کتنے   ہیں
میں   نہ  ابجد سے بڑھ سکا آگے
عشق   تیرے   نصاب  کتنے  ہیں


سیف اللہ خان مروت

جو تیرے در سے گھر سے گیا ہوگا


جو   تیرے  در   سے   گھر   گیا   ہوگا
لازمی     ہے      وہ     مر   گیا   ہوگا
زرد    پتے   گرا   رہے    ہیں    شجر
عشق    چھو     کر    گزر    گیا   ہوگا
میکدے   سے    نکلتے    دیکھا    ہے
شیخ    شاید      سدھر       گیا     ہوگا
درد   کا     مستقل        علاج     نہیں
ایک      دو      پل    ٹھہر   گیا   ہوگا
ٰغیر   ممکن    ہے   بے   وفا    نکلے
وہ   زمانے   سے    ڈر     گیا    ہوگا
کیسے مانوں کہ  وہ   رقیب   کا   ہے
کوئی      الزام      دھر     گیا   ہوگا
یہ جو خوشبو سی اک ہواوں میں ہے
دیکھ     لینا       ادھر     گیا     ہوگا

سیف اللہ خان مروت

تمہیں جو چاند چمکتا دکھائی دیتا ہے

تمہیں   جو  چاند  چمکتا  دکھائی  دیتا  ہے
مجھے فلک  پہ  سلگتا  دکھائی   دیتا   ہے
قصور   دل  کا  ہے  کچھ  یا فتورِ  بینا ئی
ہر اک شخص ہی تجھ سا دکھائی  دیتا ہے
غم  فراق  کو  نسبت  خزاں سے کتنی ہے
وہ  ایک  زرد  سا   پتا   دکھائی  دیتا  ہے
ہزاروں یادوں کے انبوہ نے  اسے  گھیرا 
جو شخص تم کو یوں تنہا دکھائی دیتا ہے
بدل کے سمت ہوائیں ادھر ہی  چلتی  ہیں
جدھر  چراغ  لزرزتا  دکھائی   دیتا   ہے

سیف اللہ خان مروت

بشکل وقت میں شام و سحر میں رہتا ہوں

بشکل   وقت   میں  شام  و سحر میں رہتا ہوں
بچھڑ  کے  تجھ سے ہمیشہ سفر میں رہتا ہوں
کیا  ہے  ضبط  وہ  رویا نہیں  ہوں  مدت   سے
وہ  ایک  اشک  ہوں  جو جشم تر میں رہتا ہوں
گنوا   نہ   وقت   اے    ناصح   اثر   نہیں   ہوگا
میں   بعد   شام   جہانِ   دگر   میں    رہتا   ہوں
جو  ہوتا   خاک   تو    آندھی   اڑا   رہی    ہوتی
نشان  گل  ہوں   نسیمِ   سحر   میں   رہتا   ہوں
بڑھاو    تیرگی   مجھ  کو  اور   بھی   چمکا  دو
میں روشنی ہوں چراغ و  شرر  میں  رہتا  ہوں
نہ سنگ اٹھاوں گا مجنوں پہ میں کسی  صورت
خود اہل شوق ہوں شیشے کے گھر میں رہتا ہوں
نہ  جانے  کونسا  جادو  ہے   اسکی آنکھوں میں
میں ایک عمر سے  اسکے  اثر  میں  رہتا  ہوں
سیف اللہ خان مروت



ye zabta hai ki baatil ko mat kahun baatil | ضابطہ | Habib Jalib

یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازوئے قاتل یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ د...