جمعرات، 31 اکتوبر، 2019

وہ درد بھرے لمحے

تکلیف کی شدت سے بے اختیار اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، درد تھا جو برداشت کی حدیں پھلانگ رہا تھا۔ وہ ایک بردبار انسان تھا بڑی بڑی تکلیفیں بھی خندہ پیشانی سے سہنے والا لیکن یہ درد نیا تھا اور جان لیوا تھا۔ وہ درد کی شدت سے کراہ رہا۔ گاڑی کے اندر وہ اسے واضح دکھائی دے رہی تھی لیکن اسے اپنی پہنچ سے کوسوں دور لگ رہی تھی۔ کتنی بے نیاز تھی وہ۔ اسے اس کے درد کا ذرا بھی احساس ہوتا تو اچھل کر اسکے پاس آجاتی لیکن اسے کیا خبر کہ کس پر کیا گزری ہے۔ وہ انجان تھی۔ اس نے ایک بار پھر کوشش کی اس کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن اسکا ہاتھ نہیں پہنچ رہا تھا وہ جھکا اور پوری کوشش سے ہاتھ بڑھایا تو اسکی انگلیوں کے پور اسے چھونے لگے۔ آہ یہ لمس کتنا حسیں و دل نشیں تھا۔ اس نے آہستہ آہستہ اسے اپنی انگلیوں کی گرفت میں لینے کی کوشش کی۔ دل کو دھڑکا لگا رہا کہ کہیں وہ پھسل کر اور دور نہ چلی جائے۔ اور پھر آخر کار 
چابی اسکے ہاتھ لگ ہی گئی۔ اس نے گاڑی کا لاک کھولا اور اپنا انگوٹھا دروازے کی گرفت سے آزاد کرلیا۔ 
اور بھی درد ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔ 
ضروری نہیں کہ درد کے پیچھے عشق کا ہاتھ ہو۔

زباں بندی

ہم  نے  سہا  جدائی  کو اتنا سہا کہ بس 
کتنا  بہا  ہے   اشک  بس  اتنا بہا کہ بس 
بیگم سے بات کرنی تھی کل عقد ثانی کی
جوں کھولا منہ تو ہاتھ اٹھا کر کہا کہ بس

پیر، 28 اکتوبر، 2019

وقت بدلتا ہے وقت کے تقاضے بدلتے ہیں

 جب وقت بدلتا ہے تو ساتھ ساتھ وقت کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ 
پرانے زمانے میں جب محبوب ناراض ہوجاتا تو جو انتقامی کاروائیاں ہوتیں وہ فی زمانہ ناپید ہیں۔ مثلاً محبوب بول چال بند کردیتا پنگھٹ آنا جانا موقوف کردیتا یا گزرتے ہوئے آنچل کا ہاتھ بھر گھونگٹ نکال کر گزرجاتا۔ مزید شدت پیدا کرنے کیلئے چھت پہ آنا چھوڑ دیتا تاکہ عاشق کو دیدار سے بھی محروم کردے۔ اگر ناراضگی ذرا مزید شدت اختیار کر جاتی تو خط و کتابت کا سلسلہ موقوف کردیا جاتا۔ عاشق چٹھی لکھ کر جوابی چٹھی کے انتظار میں ایڑیاں رگڑ رگڑ  کر جیتا اور انتظار کی سولی پہ لٹکا رہتا۔ حالانکہ اکثر اوقات تو خط وکتابت اتنی ہوجاتی کہ محبوب کے جواب کا بھی قبل ازوقت عاشق کو پتا ہوتا۔ غالب نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ،
قاصد کے آتے آتے خط ایک اور لکھ رکھوں 
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں 
لیکن پھر وقت بدل گیا۔ کاغذی ڈاک کے سے برقی ڈاک اور وہاں سے فیس بک اور وٹس ایپ تک پہنچ گیا۔ وقت گویا پچھلی دو دہائیوں میں صدی بھر کی زقند بھرکر آگے نکل گیا اور بہت سی روایتی چیزوں کو روندتا اور کچلتا ہوا بڑھا۔ چٹھی، نامہ بر، پنگھٹ سب ختم ہوگئے۔ جو نہ بدلا وہ زود رنج محبوب نہ بدلا۔ انتقامی کاروائیاں اب بھی ویسے ہی جاری ہیں بس ذرا انداز بدل گیا۔ اب ناراضگی ہو تو وٹس ایپ سٹیٹس کی پرائیویسی تبدیل کرلیتا ہے، عاشق کا سٹیٹس نظر انداز کرلیتا یے۔ ناراضگی زیادہ بڑھ جائے تو لاسٹ سین اور ریڈ ریسیٹ بھی بدل دیتا ہے۔ بعض اوقات تو بلاک بھی کردیتا ہے۔ فیس بک پر آپکی پوسٹوں پر قہقہے اور دل والے لائیک کی بجائے انگوٹھے پر اکتفا کرنا شروع کردیتا ہے۔ ذرا زیادہ ناراضگی ہو تو پوسٹ پڑھ کر ہی آگے بڑھ جاتا ہے۔ ادھر عاشق کوئلوں پہ لوٹ رہا ہوتا ہے اور گنگناتا رہتا ہے کہ 
ہم ہی بے تاب نہیں درد جدائی کی قسم 
پوسٹیں رات گئے وہ بھی تو پڑھتے ہوں گے
اگر آپ بھی ایسی صورتحال سے دوچار ہیں تو خاطر جمع رکھئے وہ آپ کے سٹیٹس بھی دیکھتا ہے آپ کی ہر پوسٹ بھی پڑھتا ہے دل ہی دل میں جواب بھی دیتا ہے آپ اپنے دل کے پھپھولے دل کھول کر پھوڑتے رہیں۔ ذاتی تجربے کی بنیاد پر بتا رہے ہیں کہ یہ محنت شاقہ ضرور رنگ لائیگی کیا ہوا جو ہمارے تجربے کا نتیجہ ذرا مختلف تھا۔ اپنے ساتھ کیا ہوا بتا نہیں سکتے بس اتنا سمجھ لیجئے کہ؛
سٹیٹس اپڈیٹ کرتے رہے اور سمجھتے تھے کہ ہاں 
رنگ لائیگی یہ اپنی پوسٹا پوسٹی ایک دن 

اتوار، 27 اکتوبر، 2019

دست بستہ عرض

درد فراق جان کے درپے ہے آ بھی جا 
دلچسپیاں کہاں وہ بہاروں میں رہ گئیں 
جان وفا بھروسہ نہیں دم کا ضد نہ کر
اب تو پلیٹ لیٹس، ہزاروں میں رہ گئیں 

(سیف الله خان مروت)

بدھ، 16 اکتوبر، 2019

وقت

وقت تو گزرتا ہے
وقت نے گزرنا
وقت کی یہ فطرت ہے
تیرے ساتھ بھی گزرا
بن تیرے بھی گزرے گا
فرق صرف اتنا ہے
تیرے سنگ جو بیتے
سال تھے فقط لمحے
اور تیرے بن جو ہیں
لمحے سال بھر کے ہیں
وقت تو گزرتا ہے
(سیف الله خان مروت)

مرد اور درد

مرد کو درد نہیں ہوتا۔ یہ جملہ لگ بھگ چونتیس سال پرانا ہے۔ مرد فلم میں امیتابھ بچن کا ایک مشہور ڈائیلاگ تھا کہ "جو مرد ہوتا ہے اسے درد نہیں ہوتا۔ اس ایک جملے نے انگنت مردوں کو بے شمار ناقابل برداشت درد سہنے پر مجبور کیا ہے۔ حالانکہ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ یہ بات درست نہیں۔ مرد کو بھی درد ہوتا ہے۔ بلکہ عورت کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے کیونکہ عورت کی کوئی بیوی نہیں ہوتی۔ پھر فلم لکھنے والے نے ایسا کیوں لکھا میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ ممکن ہے لکھنے والے کا مطلب یہ ہو کہ مرد کو دردِ زہ یا زچگی کا درد نہیں ہوتا کیونکہ بے تحاشا تحقیق کے باوجود بھی اس درد کے علاؤہ ہمیں کوئی درد نہیں ملا جو مرد کو نہ ہوتا۔ کہتے ہیں شاعری دراصل درد کی شدت میں کی گئی آہ و بکا کا نام ہے۔ اب آپ خود ہی دیکھ لیں مرد اور خواتین شعراء کی تعداد میں فرق بالکل واضح ہے۔ اگر ہر اچھی بری شاعرہ کو شامل کرکے بھی موازنہ کریں تو شاید پانچ سے دس فیصد زیادہ خواتین شاعرات نہیں ملیں گی۔ اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ مردوں کو کچھ زیادہ ہی درد ہوتا ہے۔ اب رہی بات درد زہ کی تو اس کے مقابلے میں مردوں کے ایسے ایسے پوشیدہ درد ہیں جو اگر منظر عام پر آجائیں تو ہر درد اس کے سامنے شرمسار ہو۔ مثلاً شادی شدہ مردوں کا بیگم کی آنکھ بچا کر خواتین کو چوری چھپے پیغامات اور چہک چہک و لہک لہک کر خواتین کی پوسٹوں پر ماہرانہ اور "لوسیانہ"تبصرے، اپنی بیگم کی بنائی ہوئی مٹن کڑاہی پر ناگواری کا اظہار کرنے والے شوہروں کے زنانہ نام والی آئی ڈی (چاہے اصل میں عبدالغفور صاحب ہی کی کیوں نہ ہو) پر ویری ٹیسی اور ویری نائس ڈئیر کے تبصرے کرتے ہوئے جس درد اور کرب سے گزرتے ہیں وہ ناقابل بیان ہی نہیں بلکہ ناقابل نشرو اشاعت بھی ہے۔  
مرد کو کبھی روتے پیٹتے نہیں دیکھا جاتا چاہے دن رات بھی اس پر گھریلو تشدد ہوتا رہے جسکا مطلب یہ لیا گیا کہ مرد کو درد نہیں ہوتا۔ اجی ہوتا ہے درد کون کہتا ہے نہیں ہوتا۔ پنجابی مردوں کے علاؤہ ہر مرد کو درد ہوتا ہے البتہ انہیں درد نہیں ہوتا کیونکہ۔۔۔۔
انکو درد ہوتی ہے۔ (بہت کم پنجابی درد کو مذکر سمجھتے ہیں شاید اسکی وجہ پنجابی لفظ پیڑ کا مونث ہونا ہے)۔ ہم نے ایک دوست کی توجہ اس طرف دلائی کہ میاں درد مذکر ہے مونث نہیں۔ وہ ضد کرنے لگے کہ نہیں مونث ہے درد ہوتی ہے۔ ہم بھی اڑ گئے کہ نہیں درد ہوتا ہے۔ کہنے لگے "کیہڑی پیڑ ہے تینو" اب دیکھو اس میں درد کیا یے؟ عرض کیا اس میں ذرا سا بھی درد نہیں۔ بولے پیڑ کیا ہے؟ عرض کیا مونث ہے۔ چہک کر بولے تو پھر درد کیسے مذکر ہوا؟ عرض کیا ممکن ہے پیڑ کا شوہر ہو؟ بہر حال وہ مانے نہیں اور ابھی تک انہیں درد ہوتی ہے۔ اس حساب سے وہ کہہ سکتے ہیں کہ مرد کو درد نہیں ہوتا۔ 
یقین مانئے مرد کو درد ہوتا ہے۔ وہ بتا نہیں پاتے لیکن درد ہوتا ہے، جب بچی کی گڑیا خریدنے کے پسے نہ ہوں، جب بیمار بیوی بچوں کے علاج کے پیسے نہ ہوں، جب بچوں کی فرمائشیں پوری نہ کرسکے اور شام خالی ہاتھ گھر آکر بھولنے کا بہانہ کرے، جب سارا دن گھوم پھر کر مزدوری نہ ملے اور شام کے وقت خالی ہاتھ گھر جائے، جب اپنی بیٹی کو ڈولی میں بٹھاکر کسی غیر کے حوالے کرے اور وداع کرنے کے بعد شام کو تھکا ہارا گھر آئے اور گلے لگنے والی بیٹی گھر میں نہ رہے تو بہت درد ہوتا ہے۔ اور اسوقت تو درد کی انتہا نہیں رہتی جب کوئی انتہائی حسین ڈی پی والی محترمہ یہ کہہ کر بلاک کردے کہ اگر آپ شادی شدہ اور دس بچوں کے باپ نہ ہوتے تو میں آپ کو بلاک نہ کرتی۔ لیکن کیا کیجئے کہ مرد اپنے دکھڑے سنا بھی نہیں سکتے کیونکہ بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ مرد کو درد نہیں ہوتا اور مرد روتے نہیں۔

پیر، 14 اکتوبر، 2019

مان نہ مان میں تیرا مہمان

اردو کے اس محاورے کا مہمان کیساتھ قطعاً کوئی تعلق نہیں یہاں تک کہ بن بلائے مہمان کیساتھ بھی نہیں۔ عموماً یہ محاورہ ایسی صورتحال کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں غیر متعلقہ شخص کسی دوسرے کے معاملات میں ٹانگ اڑائے۔ ٹانگ اڑانا محاورہ بھی پرانا ہی ہوگیا اب تو لوگ ٹانگ اڑانے کی بجائے پورے کے پورے گھستے چلے آتے ہیں جوتوں سمیت۔  عربی بدو کا اونٹ اس لحاظ قدرت بہتر تھا کہ جوتے خیمے کے باہر اتار گیا تھا صرف خود سالم گھس گیا تھا۔ ان ٹانگ اڑانے والے افراد میں سب سے پہلے نمبر پر رشتہ دار آتے ہیں۔ یوسفی صاحب فرماتے ہیں کہ دشمنوں کی بلحاظ شدتِ دشمنی تین اقسام ہیں، دشمن، جانی دشمن اور رشتہ دار۔ قریبی رشتہ داروں کو خونی رشتہ دار بھی کہا جاتا ہے۔ خونی کا مطلب آپ سب جانتے ہی ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال یہ بھی ہے کہ خونی جب بطور سابقہ استعمال ہوتا ہے تو اسکا مطلب قاتل یا خطرناک نہیں بلکہ قریبی اور عزیز ہوتا ہے۔ ہم ذاتی طور پر بوجوہ اس سےاتفاق نہیں کرتے۔ ایسا نہیں کہ خونی صرف رشتہ داروں کیساتھ ہی بطور سابقہ لگتا ہے۔ یہی سابقہ جب دست اور باوسیر کیساتھ لگایا جاتا ہے تو مرض کی شدت دوچند ہوجاتی ہے اور علیٰ ہذالقیاس رشتہ داروں میں بھی خونی رشتہ دار کہلانے والے زیادہ زہریلے ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی کے ہر معاملے میں ٹانگ اڑانا نہ صرف اپنا پیدائشی حق بلکہ کار ثواب سمجھتے ہیں۔ یہ سلسلہ پیدائش سے شروع ہوتا ہے اور موت پر بھی ختم نہیں ہوتا۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو سب سے پہلے اسکا نام رکھنے میں مداخلت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی نام انکو بہت پرانا لگتا ہے تو کسی نام کا شخص پچاس سال پہلے برا نکلا ہوتا ہے، کوئی نام کسی نہ کسی دور پار کے رشتہ داروں کے بچوں کا پہلے سے ہوتا ہے الغرض ہر نام پر سیکڑوں اعتراضات۔ اسکے بعد شکل پر بحث ہوتی یے۔ اگر بچہ خوبصورت ہو تو ننھیالی اور ددھیالی رشتے داروں میں رسہ کشی شروع ہوجاتی ہے اور ہر فریق نین نقش اپنے خاندان کے زندوں اور مرحومین سے ملانے کی کوشش کرتا ہے۔ مختلف اعضاء کی جتنے لوگوں سے مشابہت ثابت کی جاتی ہے اگر بچہ کو اس حساب سے تقسیم کیا جائے تو ہر فرد کے حصے آدھ چھٹانک بھر بچہ آئے۔  تاہم اگر بچہ خوبصورت نہ ہو تو ایک دوسرے پر ڈالنے لگ جاتے ہیں۔ بچہ سکول جانے لگے تو انکو بچے کے سکول اور تربیت پر اعتراض۔ ہر محفل میں ایک بار تذکرہ لازمی ہوتا ہے کہ بچوں کو سستے سکول میں ڈال کر انکا مستقبل خراب کیا جارہا ہے۔ اگر مہنگے سکول میں داخل ہوگئے تو بھی اعتراض۔ کہتے ہیں اچھے بھلے بچوں کو لنڈے کے انگریز بنا رہے ہیں دیکھنا کل کلاں بڑے ہوکر انکو اولڈ ہاؤس میں ڈال کر آئیں گے یہی بچے۔ صرف مہنگے سکولوں میں پڑھانا ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ اگر بچہ ذہین نکلا تو ننھیال اور ددھیال پھر کھینچا تانی میں مصروف اور اگر ہماری طرح کوڑھ مغز ہوا تو دونوں طرف کے رشتہ دار ایک دوسرے کو الزام دینے لگیں۔ جوان ہوجائیں تو انکی مداخلت انتہا کو چھو رہی ہوتی ہے۔ ہر رشتہ دار کے گھر میں شادی کے منصوبے بن رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں شادیاں زیادہ تر رشتہ داروں کی مرضی سے ہی طے پاتی ہیں آسمان پر بھی جوڑے بنتے ہوں گے شاید عروسی جوڑے جن کی قیمت واقعی آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ اکثر لوگ شادی اور ولیمے کی تقریبات سے فارغ ہوکر صرف اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ اب رشتہ داروں کو مان نہ مان میں تیرا مہمان نہیں بننا پڑے گا۔ لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے۔ شادی کے دو ماہ بعد ہی وہ دلہن کی چال اور کپڑوں کا بغور مشاہدہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ کام زیادہ تر خواتین کا ہوتا ہے۔ تیسرے مہینے تک کسی آنے والے مہمان کی خوشخبری نہ پاکر شدید مایوسی شروع ہوجاتی یے۔ ہر دو بزرگ خواتین سر جوڑ کر کھسر پھسر کرنے لگتی ہیں۔ مجھے تو پہلے ہی شک تھا لڑکی بانجھ ہے۔ ہے ہی جنم جلی۔ اسکی تو نانی بھی بانجھ ہی تھی۔ کہتے ہیں کہ انکی ماں کو انکی نانی نے کوڑے کے ڈھیر سے اٹھایا تھا۔ ہر رشتہ دار نے حاذق حکیموں، طبیبوں، ڈاکٹروں، پیروں، فقیروں اور درگاہوں کی لمبی فہرست حفظ ماتقدم کے طور پر پہلے ہی تیار کر رکھی ہوتی ہے۔ (اس ضمن میں مزید تفصیلات بتانے کی صورت میں سنسر بورڈ حرکت میں آسکتا ہے اسلئے قارئین خود قیاس آرائیاں فرمالیں). اب پتا نہیں کیا صورتحال ہے لیکن آج سے کچھ دہائیاں پہلے جب ہماری شادی ہورہی تھی تو اس زمانے میں ہر رشتہ دار کی خواہش ہوتی تھی کہ انکا نام شادی کے کارڈ پر بحروف جلی لکھا جائے۔ کچھ لوگ تو مرحومین تک کے نام لکھواتے تھے۔ ہم نے متمنیء شرکت میں سارے زندہ اور ج۔س۔م۔ف (جواب سے مطلع فرمائیں) کے نیچے جملہ مرحوم رشتہ داروں کے نام لکھوا کر جان چھڑائی تھی۔
مرنے کے بعد بھی رشتہ دار معاف نہیں کرتے۔ میت کے غسل سے لیکر کفن کی کوالٹی اور سفیدی تک، جنازہ پڑھانے والے امام سے لیکر قبر کی جگہ تک اور جمعرات، تیجے اور چالیسویں تک میں مسلسل کیڑے ڈالتے اور نکالتے رہتے ہیں۔  دروغ بر گردن راوی لیکن کہا یہ جاتا ہے کہ مرزا غالب نے یہ شعر اپنے آخری وقت رشتہ داروں کے جھگڑوں سے تنگ آکر ہی کہا تھا کہ
ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کوئی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

ye zabta hai ki baatil ko mat kahun baatil | ضابطہ | Habib Jalib

یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازوئے قاتل یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ د...