پیر، 20 اپریل، 2020

پرے ‏شانی

مجھے جیسے ہی اطلاع ملی کہ وہ ہسپتال میں ہے میں وقت ضائع کئے بغیر ہسپتال پہنچ گیا۔ اسکے سر پر پٹیاں تھیں اور وہ ابھی تک بے ہوش تھا۔ اسے پہلی بار اس حالت میں دیکھ کر مجھے بے اختیار رونا آگیا۔ میں ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھ گیا اور پیچھے سر ٹکا کر کل شام کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ وہ کافی دنوں سے پریشان تھا اور جب بھی وجہ پوچھی تو وہ ٹال دیتا۔ کل شام اچانک اس نے کہا کہ پریشانیاں تو ہرانسان کے ساتھ ہوتی ہیں اور تمہاری بھی یقینا ہوں گی۔ میں نے کہا بالکل ہیں اور شاید بہت سے لوگوں سے بڑی بڑی پریشانیاں ہیں۔ تو وہ کہنے لگا کہ پھر تم کیسے ہروقت اتنے خوش رہ لیتے ہو۔ تمہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ اس انسان کو کبھی کسی پریشانی نے چھوا تک نہیں۔ آخر کیسے کر لیتے ہو؟ سوال سنجیدہ تھا اسلئے مجھے سنجیدہ ہونا پڑا ورنہ عموما میں ایسی باتیں مذاق میں ٹال دیتا ہوں۔ میں نے کہا دیکھو لعل حسین بات یہ ہے کہ پریشانی کا تعلق جسم سے نہیں ہے۔ جسم کو جب چوٹ لگتی ہے یا دباو پڑتا ہے تو درد ہوتا ہےپریشانی نہیں۔ پریشانی کا تعلق روح کے ساتھ ہے۔ جب تمہاری روح کو تکلیف ہوتی ہے تو پریشانی ہوتی ہے۔ اور ہر پریشانی کےپیچھے کوئی نہ کوئی خو ف ہوتا ہے۔ اس نے مجھے ٹوکا اور کہنے لگا کہ  چلو خوف کی بات سمجھ میں آنے والی ہے کہ خوف سے پریشانی جنم لیتی ہے لیکن یہ کیا بات ہوئی مطلب اگر کوئی میرے سر پر بندوق رکھے تو میں پریشان ہوں گا حالانکہ یہ ہم جانتے ہیں کہ بندوق روح کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی وہ صرف جسم کو نقصان پہنچا سکتی ہے تو پھر پریشانی کیوں ہوتی ہے؟میں نےکہا سیدھی سی بات ہے جسم روح کی سواری ہے۔ جسم کے بغیر روح اس دنیا میں نہیں رہ سکتی۔ اسلئے روح کو جب بھی یہ خوف محسوس ہو کہ اسکی سواری کو کوئی نقصان پہنچنے والا ہے تو یہ خوف روح کو پریشان کردیتی ہے۔ اس نے اب آنکھیں بند کرکے سر اثبات میں ہلانا شروع کردیا گویا بات اسکی سمجھ میں آگئی۔ میں نے کہا دیکھو یہ جسمانی تکالیف کا خوف جزوقتی ہوتا ہے اور جوں ہی وہ خطرہ ٹل جاتا ہے خوف بھی ٹل جاتا ہے اور پریشانی بھی ختم ہوجاتی ہے اسلئے یہ پریشانیاں اتنی نقصاندہ نہیں ہوتی ہیں۔ جو پریشانیاں زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں وہ وہ پریشانیاں ہیں جو کل وقتی ہوتی ہیں جن کا تسلسل نہیں ٹوٹتاایک لمحے کے لئے بھی ۔ اور یہی وہ پریشانیاں ہوتی ہیں جو بعض اوقات آپکے اعصاب کو توڑ دیتی ہیں اور بعض لوگ اس تسلسل کو توڑنے کیلئے منشیات کے عادی ہوجاتے ہیں یا مستقل نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور جتنا میں نے مطالعہ کیا ہے اسکے مطابق پریشانیوں کی سب سے بڑی وجہ راز رکھنا ہے۔ جب ہم بہت سی ایسی باتیں جو درحقیقت چھپانے والی نہیں ہوتیں ہم چھپانے لگتے ہیں ۔ مثلا آپ غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں لیکن امیر ہونے کے بعد آپ اس بات کو چھپاتے ہیں ، آپ کسی چیز کے بارے میں لاعلم ہیں لیکن آپ اسکے بارے میں علمیت کا دعویِ کرتےہیں یا آپ نے کوئی ایسا کام کیا جو گناہ بھی نہیں لیکن چونکہ معاشرے میں اسکو برا سمجھا جاتا ہے تو آپ اسکو چھپاتے رہتے ہیں۔ اب یہ ایسی باتیں ہیں جن کا چھپانا بنتا ہی نہیں لیکن ہم ایسی بہت ساری چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنی روح کو بوجھل کردیتے ہیں اور اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت ساری چھوٹی چھوٹی لیکن مسلسل پریشانیاں مل کر ایک بڑی پریشانی بنالیتی ہیں۔ کبھی آپ نے صحرا میں بگولا دیکھا ہے؟ یہ بگولا یکدم اتنا بڑا نہیں بنتا ۔ بہت سارے چھوٹے چھوٹے بگولےبنتے ہیں اسکے بعد یہ بگولے آپس میں ملتے جاتے ہیں اور ایک بڑے بگولے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جو آبادی کی طرف جائے تو گھروں کی چھتیں اڑا کر لے جاتا ہے اور درخت زد میں آجائیں تو انہیں جڑ سے اکھاڑ دیتا ہے۔ 
میری سوچوں میں اسکے کراہنے کی آواز نے رخنہ ڈالا۔ میں نے دیکھا تو وہ آنکھیں کھول کر چھت کو دیکھ رہا تھا۔ میں نے اسکا ہاتھ تھاما اور پوچھا کیسے ہو؟ اس نے منہ دوسری طرف پھیر دیا۔ میں نےکہا کچھ بتاو تو ہوا کیا ایکسیڈنٹ کیسے ہوا؟ اس نے کہا کونسا ایکسیڈنٹ؟ مجھے پریشانی لاحق ہوگئی کہ چوٹ کی وجہ سے شاید یاد داشت چلی گئی ہے۔ میں نے کہا سر پہ چوٹ کیسے لگی؟ میرے اس سوال پر وہ پھٹ پڑا اور غصے سے دانت پیستے ہوئے بولا تمہاری وجہ سے ہوا سب کچھ۔ میری وجہ سے ؟ وہ کیسے؟ میں نے حیران ہوکر پوچھا۔ کل جو تم نے پتا نہیں درد اور روح اور پریشانی کے بارے میں جو ایک گھنٹہ بکواس کی تھی بھول گئے ہو کیا؟ اس نے غصے سے پھنکارتے ہوئےکہا۔ ان باتوں سے تمہارے سر پھٹنے کا کیا تعلق؟ میں نے حیران ہوکر پوچھا۔ کہنے لگا کل رات بھر میں تمہاری باتوں کے بارے میں سوچتا رہا اور باتیں میرے دل کو لگی تھیں۔سونے سے پہلے میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں اب مزید راز نہیں رکھوں گا۔ صبح بیگم کچن میں ناشتہ بنا رہی تھیں مجھ سے صبر نہیں ہوا اسلئے وہیں جاکر اسے سچ سچ بتا دیا کہ میں نے تم سے چھپ کر دوسری شادی کی ہوئی ہے اور میں تمہیں مزید اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہتا۔ اسکے بعد میں نے بیلن ہوا میں اٹھتے دیکھا اور اسکے بعد اب میری تمہارے سامنے آنکھ کھلی ہے۔ بات کرتے کرتے اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ مجھے اس پر ترس آنے لگا، میں نے کہا دیکھوہر کام کے کچھ بنیادی اصول۔۔۔۔۔ ابھی میں اتنا ہی کہ پایا تھاکہ اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور پھر ایسے ہاتھ جوڑ کر عاجز صورت بنائی جیسے مندر میں کوئی پجاری مورتی کے آگے ہاتھ جوڑ کر عاجزی سے کھڑا ہوتا ہے اور کہنے لگا، خدا کیلئے اب مزید کوئی فلسفہ نہیں۔ اب تک کسی پریشانی نے میرے سر میں بیلن نہیں مارا اور میں ہسپتال نہیں پہنچا، مجھے اپنی پریشانیوں کے ساتھ جینے دوتمہیں خدا کا واسطہ۔ میں خاموشی سے اٹھ کردروازے کی طرف بڑھ گیا۔ مجھے فلسفے کے کسی نئے طالبعلم کی تلاش تھی جسکی پریشانی حل طلب ہو۔

اتوار، 19 اپریل، 2020

جنٹلمین ‏

یہ کوئی 14 سال پہلے کی بات ہے جب ہم نے اکاونٹس کی ملازمت کو خیر باد کہہ کر بینک کی ملازمت اختیار کی۔ ابتدائی چھ مہینے ہماری تعلیم و تربیت کیلئے مختص کئے گئے تھے جو ابتداء میں ہمیں کچھ زیادہ لگے لیکن بعد میں اندازہ ہوا کہ بہت کم ہیں۔ تعلیم تو خیر مشکل نہیں تھی تربیت البتہ بہت مشکل تھی۔ سب سے مشکل کام جنٹلمن کی طرح کھانا کھانا تھا۔ ڈائننگ ہال میں صرف میز تھی کرسیاں نہیں تھیں۔ مطلب کھڑے کھڑے کھانا تھا۔ اب ہم ٹھہرے دیہاتی کہ جب تک زمین پر آلتی پالتی مار کر نہ بیٹھیں کچھ کھایا ہی نہیں جاتا۔ اوپر سے چمچ چھری کانٹے سے کھانا جسکا نہ ہمیں تجربہ تھا نہ خواہش۔ اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بچپن میں چمچ سے کڑوی دوائی کے علاوہ ہم نے کچھ نہیں کھایا۔ سالانہ بخار کے دنوں میں کئی طرح کے کڑوے شربت ہی ناک بند کرکے اور چمچ سے منہ میں انڈیلے گئے۔ دوسری وجہ یہ کہ جب بھی کسی ہوٹل یا ریستوران میں چمچ دیکھتا ہوں تو پہلا خیال ذہن میں یہ آتا ہے کہ یہ چمچ مجھ سے پہلے کتنے لوگوں کے منہ کی سیر کرچکا ہوگا۔ بس یہی سوچ کر ہی چمچ سے کھانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ اکثر ساتھی شہری بابو تھے اور چاول جلدی جلدی کھا لیتے جبکہ ہم چاول کے نہ عادی ہیں نہ شوقین۔ صحرا میں پلے بڑھے جہاں چاول سال میں دو دفعہ پکتے محرم میں اور شب برات کے موقع پر اس کے علاوہ کبھی کوئی فوت ہوا اور ایصال ثواب کیلئے کسی نے چاول لوگوں کو کھلائے تو وہ اضافی موقع لیکن اس زمانے میں یہ نئی بیماریاں جیسے کینسر، ہیپاٹائٹس سی اور ہارٹ اٹیک ابھی ایجاد نہیں ہوئی تھیں تو اموات بہت کم ہوتی تھی۔ تو ہم روٹی کے ایسے عادی ہیں کہ اگر من و سلوای بھی کھلادیں تب بھی شاید دانہ گندم کی طلب ضرور کریں گے۔ پلیٹ میں سالن ڈالنے کے بعد روٹی کہاں رکھیں؟ اور پلیٹ میں رکھ بھی دیں تو دوسرے ہاتھ میں پلیٹ پکڑی ہو تو روٹی ایک ہاتھ سے توڑیں کیسے؟ جبکہ بچپن سے سکھایا گا تھا کہ ایک ہاتھ سے روٹی توڑنا معیوب اور رزق کی بے توقیری ہے۔ اوپر سے سوٹ اور ٹائی۔ بسا اوقات ہم پہلے ہماری ٹائی سالن میں ڈبکی لگالیتی تھی۔ جسے ہم چوس کر صاف کرلیا کرتے۔ لہذا ہم اپنی پلیٹ اٹھا کر ٹریننگ ہال میں جاکر آرام سے کرسی پر بیٹھ کر کچھ دن کھاتے رہے۔ لیکن دیکھا دیکھی باقی لوگ بھی وہاں بیٹھ کر کھانے لگے تو سٹاف کالج نے سختی منع کردیا۔ اب ہمارے پاس کوئی چارہ نہ تھا سوائے اس کے کہ کوئی درمیانی راستہ نکالیں۔ تو ہم نے یہ حل نکالا کہ روٹی کے چھوٹے ٹکڑے کرکے پہلے سے پلیٹ میں رکھ لیتے اور پھر ایک ایک ریڈی میڈ نوالہ کھا کر پیٹ بھرتے۔
جب تعلیم و تربیت اختتام کے قریب پہنچی تو ہم سب کو پی سی ہوٹل بھوربن میں ایک دن ظہرانے کے لئے لے جایا گیا۔ پہلی بار کسی بڑے ہوٹل میں جانا ہوا تھا۔ فرش اتنا صاف تھا کہ پوری چھت اس میں واضح نظر آرہی تھی۔ پہلی نظر دیکھنے کے بعد ہمیں لگا کہ یا تو پانی کا تالاب ہے یا پھر آئینہ۔ اس فرش پر اگر ہم اکیلے ہوتے تو کبھی جوتوں سمیت چلنے کی ہمت نہ کرتے بلکہ اگر گرمیاں ہوتیں تو شاید کپڑے اتار نہانے کیلئے چھلانگ ہی لگادیتے۔ خیر دوسروں کی دیکھا دیکھی ہم بھی بادل ناخواستہ اور سہمے سہمے جوتوں سمیت داخل ہوئے۔ ہوٹل میں لوگ تھے لیکن شور نہیں تھا۔ سب لوگ بڑی مدھم آواز میں گفتگو کر رہے تھے جس سے ہماری گھبراہٹ اور بڑھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد بیت الخلا جانا ہوا۔ باہر نکل کر ہاتھ دھونے کیلئے بیسن کی طرف گیا تو نل کھولنے کیلئے کوئی ناب موجود نہیں۔ میں نے دائیں بائیں اوپر نیچے ٹٹول کر دیکھا لیکن بے سود۔ باہر جا کر تھوڑی دیر میں کھانا کھانا تھا اس لئے ہاتھ دھوئے بغیر بھی نہیں جاسکتا تھا۔ جیسے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ چمچ چھری کانٹے کو دیکھ کر ہی آدھی بھوک مرجاتی ہے، تو لا محالہ روٹی ہاتھوں سے ہی توڑنی تھی۔ لہذا نے فیصلہ کیا کہ تھوڑی دیر انتظار کرتے ہیں کہ کوئی اور ہاتھ دھوئے تو طریقہ سیکھ لیتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ہی ایک بندہ آیا اور ہاتھ دھوکر میری طرف بڑھنے لگا۔ پہلے تو میں سمجھا مجھ سے ملنے آرہا ہے لیکن جب اس نے ایکسکیوز می کہا تو میں حیران ہوا کہ میں راستے میں تو نہیں کھڑا نہ میرے پیچھے دروازہ ہے۔ بہرحال میں نے اسے ایکسکیوزا اور ایک طرف ہوگیا۔ میں جہاں کھڑا تھا وہاں میرے پیچھے دیوار پہ کوئی ڈبہ سا تھا۔ یکدم سے اس ڈبے سے غوں غوں کی آوازیں نکلیں تو میں گھبرا کر دو قدم اور پیچھے ہٹ گیا۔ اس میں کچھ نکل نہیں رہا تھا لیکن وہ اپنے ہاتھ آپس میں رگڑ رہا تھا۔ جب وہ چلا گیا تو میں پھر بیسن کے پاس گیا لیکن نل پانی دینے پر آمادہ نہ ہوئی۔ اب میں نے ٹھان لی کہ پانی نکال کر ہی رہوں گا چاہے لوہے کے نل کو نچوڑنا ہی کیوں نہ پڑے۔ ادھر ادھر ہاتھ مارتے ہوئے اچانک نل سے پانی نکل کر میرے ہاتھ پر گرا تو میں گھبرا کر پیچھے ہٹا اور گرتے گرتے بچا۔ دائیں بائیں نظر دوڑائی کہ کسی نے دیکھا تو نہیں اور یہ دیکھ کر تسلی ہوئی کہ وہاں کوئی نہیں تھا۔ ایک بار پھر ڈرتے ڈرتے ہاتھ بڑھایا اور نل کے نیچے بیسن کو دبانے ہی والا تھا کہ اس سے پہلے ہی پانی نکلنا شروع ہوگیا۔ پہلے میں سمجھا شاید نل کے آس پاس کوئی جگہ دبنے سے پانی نکلا ہے۔ لیکن اب اندازہ ہوگیا کہ نل کے نیچے ہاتھ جائے تو پانی خودکار طریقے سے نکلتا ہے۔ ہاتھ دھو کر وہاں سے تیزی سے نکل گیا۔
باقی تفصیلات پھر سہی۔ 

جب ‏عزت ‏بال ‏بال ‏بچ ‏(یادیں)

۲۰۰۵ میں میں نے فیصلہ کرلیا کہ ملٹری اکاونٹس کی ملازمت چھوڑنی ہے  اور پھر شاید ہی کوئی پاکستان کا محکمہ ہو جس میں کسی ملازمت کیلئے درخواست نہ بھیجی ہو۔ ہر ہفتے کوئی نہ کوئی ٹیسٹ یا انٹرویو ہوتاتھا۔ اسکے بعد بینک میں آگیا اور درخواستیں بھیجنے کا سلسہ رک گیا۔ لیکن امتحان ہال کی جو ایک مخصوص سنسنی ہوتی ہے اسکا ایسا چسکا پڑا کہ یہ سلسلہ اب تک نہیں رکا۔ بینک میں آنے کے بعد انسٹیٹیوٹ آف بینکرز کے امتحانات کا سلسلہ جاری رہا۔ جب وہ ختم ہوگیا تو آن لائن پوسٹ گریجویٹ ڈپلوموں کا سلسلہ شروع ہوا دو تین ڈپلومے کرنے کے بعد بوریت ہونے لگی تو میں نے ایک اور حل نکالا۔ مختلف اداروں میں ملازمتوں کے ٹیسٹ دوبارہ دینا شروع کردیا۔ مقصد ملازمت کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ ٹیسٹ میں بیٹھنا ہوتا تھا۔ ہرمہینے این ٹی ایس کا کوئی نہ کوئی ٹیسٹ ہوتا اور میرا شوق پورا ہورہا تھا۔ ۲۰۱۲ میں ایس این جی پی ایل میں ایگزیکٹیو ایڈمن آفیسر کی آسامیوں کا اشتہار نظر آیا تو میں نے فورا آن لائن درخواست جمع کروادی یہ سوچ کر پوسٹ بڑی ہے تو ٹیسٹ بھی مشکل ہوگا مزہ آئے گا اور اگر تنخواہ اور مراعات زیادہ ہوئیں تو سونے پر سہاگہ۔ یہ براہ راست کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر آن لائن ٹیسٹ دینے کا میرا پہلا تجربہ تھا۔ جوں ہی آخری سوال کا جواب دیا سامنے سکرین پر نتیجہ سامنے آگیا میرے  سو میں سے اٹھتر نمبر تھے ۔ مجھے بڑ مایوسی ہوئی کہ اسی سے کم ہیں۔باہر نکلا تو کئی دوست ملے۔ جب انہوں نے پوچھا کہ ٹیسٹ کیساہوا تو میں نے کہا کہ بس گزارہ ہوا۔ نمبربتائے تو وہ  حیران ہوکر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ مجھے شرمندگی کا احساس ہوا۔جب انکےنمبر پوچھے تو زیادہ سے زیادہ نمبر ایک دوست کے تریسٹھ تھے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ میرے نمبر کافی زیادہ ہیں  مطلب اندھوں میں کانا راجاہوں۔ کچھ دنوں بعد انٹرویو کیلئے لاہور بلایا گیا۔ مجھے کچھ زیادہ امید تو نہیں تھی لیکن لاہور کی سیر کا موقع اچھا تھا۔ اس سے پہلے میں ۲۰۰۵ میں ایڈمن آفیسر کی آسامی کیلئے ٹیسٹ پاس کرکے انٹرویو دے چکا تھا اور انٹرویو بورڈ کے پانچ ممبران نے مجھے نصف گھنٹے سے زیادہ خوب لتاڑا تھا۔ تاہم میں ناکام ہوا تھا۔ 
ان دنوں لاہور میں ڈینگی کی وبا پھیلی ہوئی تھی اور لوگ لاہور جانے سے خوفزدہ ہوتے تھے لیکن یہ خوف میرے شوق کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتا تھا۔ جہاں انٹرویو کا انتظار کر رہے تھے وہاں مجھے اپنا ایم بی اے کا کلاس فیلو الیاس بھی ملا۔ وہ کسی منسٹری میں ملازمت کر رہا تھااس وقت۔ اس نے کہا کہ آپ کیوں آئے ہیں انکی تنخواہ تو آپ کی تنخواہ سے کم ہے۔ میں نے کہا آپ کیوں آئے ہیں؟ کہنے لگا میری موجودہ تنخواہ پینتیس ہزار ہے اور ایس این جی پی ایل کی تنخواہ سنا ہے ساٹھ ہزار سے اوپر ہے تو میرے لئے تو یہ اچھا موقع ہے۔ میں نے اس کی بات کو سنجیدہ نہیں لیا اور کہا کہ دیکھا جائیگا۔ جب انٹرویو شروع ہوا تو سب سے پہلا نمبر میرا تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے وقت ہمیشہ کی طرح انٹرویو کا ایک مخصوص خوف اور جسم میں چیونٹیاں دوڑنے کی وہ ایک خاص کیفیت تھی جو ہمیشہ ہوتی تھی۔ لمبی میز کے پیچھے تین افراد بیٹھے  تھے اور ایک اور شخص ذرا ہٹ کر بیٹھا ہوا تھا۔ سب سے پہلے انہوں نے میرا تعارف اور تمام تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھا۔ جو ہمیشہ کی طرح لکی مروت کے چھوٹے سے گائوں سے شروع ہوکر ڈیرہ سماعیل خان  اور ٹاہلی کے درخت کے نیچے قائم مکتب پرائمری سکول مشہ منصور سے شروع ہوکر مادر علمی گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان پر ختم ہوا۔ اسکے بعد انہوں نے ملازمت کےحوالے سے پوچھا تو میں نے تفصیل سے بتا دیا۔ اگلا سوال حسب معمول اکاونٹنگ، فائنانس یا اکنامکس کا  متوقع تھا لیکن بات کہیں اور نکل گئی۔ بجائے نصابی سوال کرنے کے ان میں سے ایک نے پوچھا کہ آپ ایک لاکھ بیس ہزار تنخواہ لے رہے ہیں اس وقت تو یہاں آپ کی توقعات کیا ہیں؟ میں نے کہا کم سے کم دو لاکھ یا اگر یہاں اس سے زیادہ ہے تو قابل قبول ہوگی۔ میں دل ہی دل میں ڈر رہا تھا کہ کہیں کم نہ بتا دی ہو۔ ان سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرادئیے۔ مجھے فورا اندازہ ہوگیا کہ میں نے غلطی سے کم بتادی تنخواہ اور دل ہی دل میں افسوس کرنے لگا۔ درمیان میں بیٹھے بزرگ جن کی خاص بات انکے سفید لمبے بال تھے اور ماتھا گنج پن کی وجہ سے آدھے سر تک پہنچ چکا تھا ، ناگوار سی شکل بنا کر بولے، کیا آپ کو اندازہ ہے کہ یہاں ہم کتنی تنخواہ دیتے ہیں؟میں نے کہا نہیں۔ کہنے لگے زیادہ سے زیادہ پینسٹھ ہزار اور کچھ اور ملا کر ستر ہزار تک ہو سکتی ہے اس سے زیادہ نہیں۔ کیا آپ اس تنخواہ پر کام کریں گے؟ جبکہ آپ ایک لاکھ بیس ہزار پہلے ہی لے رہے ہیں۔ میں نے کہا ایک لاکھ بیس ہزار تو صرف تنخواہ ہے اس میں بونس، کیش ایوارڈ، گاڑی، گاڑی کا پیٹرول اور دوسری مراعات شامل نہیں ہے۔ وہ ملاکر اوسطا" پونے دولاکھ ماہانہ بنتے ہیں ۔ اس میں لامحالہ کچھ مبالغہ بھی شامل تھا۔ اب یکدم بزرگ کے تیور بدل گئے۔ تیوری چڑھا کر بولے، تو اسکا مطلب یہ ہواکہ آپ اس تنخواہ پر کام نہیں کرنا چاہتے؟ میں نے کہا نہیں۔ اب وہ مزید بگڑ گئے۔ کہنے لگےآپ ایک ذمہ دار پوسٹ پر تعینات ہیں۔ آپ نےدفتر سے چھٹی بھی لی۔آپ نے درخواست جمع کروائی، ٹیسٹ دیا، ڈینگی کی وبا کی وجہ سے لوگ لاہور سے بھاگ رہے ہیں آپ  انٹرویو کیلئےلاہور آئے اور آپکی سنجیدگی کا حال یہ ہے کہ آپ نے کوئی ریسرچ نہیں کی کہ یہ کس گریڈ کی جاب ہے، تنخواہ کیا ہے؟مجھے اس اچانک حملے کی ہرگز توقع نہیں تھی۔شرٹ کے نیچے کہیں ٹھنڈے پسینے کے قطرے جسم پر رینگتے ہوئے محسوس ہونے لگے۔ بزرگ نے ساری عزت ہاتھ میں پکڑا دی تھی اور میں بحالی ءِعزت و آبرو کی کوئی راہ تلاش کر رہا تھا۔ وہ پھر کہنے لگے کہ ہمارے کل نو گریڈ ہوتے ہیں ایک سے نو تک اور یہ گریڈ فور کی جاب ہے۔ مجھے شدید ہزیمت کا احساس ہو رہا تھا اور بدلہ لینے کے بارے میں سوچ رہا تھا اسلئے کسی گریڈ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ مجھے ۲۰۰۵  کاانٹرویو یاد آگیا تب بھی اسی طرح ہی لتاڑا گیا تھا اور یکدم میرے ذہن میں ہر سوال کا جواب آگیا ۔ بزرگ نے فیصلہ کن لہجے میں کہا ، تو مسٹر خان آپ یہاں صرف نو کہنے آئے تھے؟ میں نے کہا نہیں۔ وہ سب لوگ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا میں کچھ اور کہنے آیا تھا۔ جی بولیں، بزرگ نے کہا اور سب میری طرف متوجہ ہوگئے۔ میں نے کہا سر آپ کو یاد ہوگا اسی دفتر میں ۲۰۰۵ میں ایڈمن آفیسر کیلئے انٹرویو ہوئے تھے اور آپ بھی اس انٹرویو پینل کے ممبر تھے۔ بولے جی ہاں۔ میں نے کہا ، سر تب میں ایڈمن آفیسر کی پوزیشن کیلئے یہاں انٹرویو دینے آیا تھا۔ اور آدھا گھنٹہ انٹرویو کرنے کے بعد آپ کے پینل نے فیصلہ یہ کیا تھا کہ میں اس قابل نہیں ہوں کہ آپ مجھے ملازمت دے سکیں جسکی یقینا آپکے پاس وجوہات ہوں گی۔ آپ تو شاید بھول گئے ہوں گے لیکن میں نہیں بھولا۔ میں نے اپنی طرف سے مکمل تحقیقات کرلی تھیںمجھے گریڈ اور تنخواہ دونوں کا اچھی طرح سے علم تھا۔ ظاہر ہے میں نے سفید جھوٹ بولا۔ میرا مقصد یہاں ملازمت کرنا بالکل نہیں تھا صرف اس پینل کے سامنے بیٹھنا تھا۔ میں آج آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ ۲۰۰۵ میں آپ نے مجھے ریجیکٹ کرکے غلطی کی تھی۔ اور اس غلطی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ایس این جی پی ایل مجھے ایفورڈ نہیں کرسکتا ۔ بس میں یہ بتانے کیلئے آیا تھا یہاں۔ میرا خود اعتمادی سے بھرپور جھوٹ بالکل نشانے پر لگا۔ وہ سب حیران ہوکر مجھے دیکھنے لگے۔ بزرگ کو میں نے ناک آوٹ کردیا تھا۔ ان کے ساتھ والے صاحب بولے کہ سات سال بعد آپ صرف یہ کہنے یہاں آئے ؟ میںنے کہا جی سر۔ بزرگ کہنے لگےیار پٹھان تو بڑے شتر کینہ ہوتے ہیں۔ آپ کا سات سال پرانا غصہ ابھی تک اترا نہیں؟ میںنے کہا سر اب اتر گیا۔ اب میں اجازت چاہوں گا۔ 
جب میں اٹھنے لگا تو میں نے ان میں سے کسی کے منہ سے سنا کہ اگلا امیدوار الیاس ہے۔ باہر آیا تو الیاس منتظر تھا۔ کہنےلگا کیا پوچھا؟ میں نے گلے لگا کر کہا مبارک ہو تم سیلیکٹ ہوگئے۔ وہ کہنے لگا بکواس نہیں کرو سوال بتاو کیا پوچھ رہے ہیں۔ میں نے کہا میرٹ لسٹ کے ترتیب سے بلا رہے ہیں۔ میرے بعد تمہاری باری ہے۔ میں انکار کر آیا ہوں تو اگر ایک سیٹ بھی ہے تو تمہاری ہے فکر نہ کرو۔ بس یہ خیال رکھنا کہ میرے گھر میں گیس کا کنکشن لگوا دینا۔ وہ بولا کنکشن چھوڑو تمہارے گھر میں میں گیس کا کنوا کھدوا دوں گا۔ اسکے بعد میں وہاں سے نکل آیا۔ ایک ماہ بعد الیاس مروت کا فون آیا۔ بہت خوش تھا کہنے لگا ابھی ابھی لیٹر ملا ہے اور میں نے ابھی اپنی ماں کو بھی نہیں بتایا پہلی کال تمہیں کی ہے کیونکہ سب سے پہلی مبارکباد تم نے دی تھی۔ الیاس ابھی تک ایس این جی پی ایل میں ملازمت کر رہا ہے لیکن وہ گیس کا کنواابھی تک اس نے نہیں کھدوایا۔

ہفتہ، 11 اپریل، 2020

ضرورت مولوی

بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ مولوی حضرات خشک مزاج اور ترش رو قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور ہنسی مذاق سے انکا دور دورتک کوئی واسطہ نہیں۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر چہ عوام کے سامنے وہ بڑی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور شاید یہ اس مقام کا تقاضا بھی ہے لیکن اگر آپ ان کےقریبی حلقے میں شامل ہیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ داڑھی پگڑی والے لوگوں کے حس مزاح کا معیار بہت بلند ہے۔ میں چونکہ غیر اعلانیہ مولوی ہوں اسلئے میرے بہت سے مولوی بہت قریبی دوست ہیں۔ ایسے ہی ایک مولوی دوست کے ساتھ جارہا تھا کہ راستے میں ایک حاجی صاحب نے آواز دیکر روک لیا۔ قریب آکر حاجی صاحب نے مولوی صاحب سے درخواست کی کہ حضرت ہمارے پیش امام کی سرکاری نوکری لگ گئی ہے اور اب انکے لئے ممکن نہیں کہ وہ امامت کرسکیں تو ہمیں امام مسجد چاہئے۔ مولوی صاحب نے کہا ٹھیک ہے میں بندوبست کردیتا ہوں آپ فکر نہ کریں۔ حاجی صاحب فرمانے لگے کہ آج کل اکثر لوگوں کے عقائد خراب ہیں تو کوشش کریں کہ صحیح العقیدہ ہو. مولوی صاحب نے کہا کہ ایسا ہی ہوگا انشاء اللہ۔ اس کے بعد کہنے لگے کہ کوشش کیجئے مستند عالم دین ہو اور مدرسے کا سندیافتہ ہو۔ مولوی صاحب نے ایک بار پھر بڑے تحمل سے جواب دیا کہ انشاء اللہ عالم فاضل ہوگا۔ حاجی صاحب نے پھر فرمائش کی کہ حضرت دیکھئے گا کہ حافظ قرآن بھی ہو کیونکہ ماہ رمضان میں تراویح میں ختم قرآن کا پھر مسئلہ ہوتا ہے۔ مولوی صاحب نے پھر کہا کہ حافظ بھی ہوگا۔ اب مولوی صاحب بھی اکتا چکے تھے جانے کیلئے حرکت کرنے لگے تو حاجی صاحب نے کہا کہ ذرا دیکھئے گا کہ خوش آواز قاری ہو نماز میں اچھی قرات سننا اچھا لگتا ہے۔ مولوی صاحب نے فیصلہ کن انداز میں کہا کہ حاجی صاحب فکر نہ کریں انشاءاللہ بندہ آپکے ہر معیار پر پورا اترے گا۔ یہ کہہ کر ہم چلنے لگے تو پیچھے سے آواز دے کر حاجی صاحب نے کہا کہ حضرت دیکھئے گا ذرا خوش شکل اور خوش لباس مولوی ڈھونڈنا ہے۔ اس پر مولوی صاحب یکدم رک کر پیچھے مڑے حاجی صاحب کے قریب گئے اور کہا کہ حاجی صاحب ایک بات تو بتائیں۔ حاجی صاحب متوجہ ہوئے تو مولوی صاحب بولے کہ یہ بتائیں آپ نے مولوی صاحب سے امامت ہی کروانی ہے نا؟ حاجی صاحب حیران ہوکر بولے جی جی امام ہی چاہئے کیوں آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ مولوی صاحب مسکرا کرکہنے لگے، بس ذرا اپنی تسلی کیلئے پوچھا کیونکہ آپ نے جتنی خوبیوں کی فرمائش کی ہے مجھے لگا آپ نے بچے نکلوا کر نسل بڑھانی ہے اسکی۔ یہ کہہ کر وہ اسی مسکراہٹ کے ساتھ واپس پلٹے اور میں سارا رستہ ہنسی سے لوٹ ہوتا رہا۔
سیف اللہ خان مروت
(یہ 1997 کا ایک حقیقی واقعہ ہے)

پیر، 30 دسمبر، 2019

مشتری ہوشیار باش

ہماری ایک خوبی کی دنیا معترف ہے اور وہ ہے اچھا مشورہ دینا۔ موٹر سائیکل کی بتی جلتی رہ گئی تو سارا راستہ لوگ ہاتھ کی انگلیاں کھول بند کرکے اشارے سے بتائیں گے کہ بھائی بتی بند کرو۔ اگر سٹینڈ اٹھائے بغیر موٹر سائیکل سڑک پر نکال لائے تو آدھا شہر "او بھائی گھوڑی اٹھالے" کی آوازیں دیتا رہے گا۔ اور اگر پیچھے بیٹھی باجی کا دوپٹہ نیچے لٹک رہا ہو تو لوگ پیچھے دوڑ دوڑ کر اور روک روک کر درست کرواتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ جن کو مشورہ دیا جاتا ہے وہ مانتے بھی ہیں۔ انہی باتوں کو دیکھ کر بہبود آبادی والوں کو حوصلہ ملتا ہے کہ کسی دن ہمارے مشوروں پر بھی لوگ عمل کر رہی لیں گے گو کہ اب تک تو معاملہ اسکے برعکس ہے۔ 
خیر آمدم بر سر مطلب میں یہاں تازہ ترین قومی مشورے کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ کل ملاکر مجموعی طور پر جب ایک ہزار سات سو تیرہ خیر خواہوں کی طرف سے یہ پیغام ملا کہ سال 2020 میں تاریخ لکھتے وقت سال 20 کی بجائے پورا 2020 لکھیں ورنہ بڑا نقصان ہوسکتا ہے تو ہم نے ممکنہ نقصانات پر غور کرنا شروع کیا۔ پتا چلا واقعی بڑے بڑے نقصانات ممکن ہیں۔ ذرا سوچیں اگر یکم جنوری 2020 کو آپ کا بچہ پیدا ہوجائے اور آپ تاریخ لکھتے وقت سال 20 لکھیں اور دو دن بعد آپ گھر آئیں تو گھر میں جوان منڈا پھر رہا ہو اور پوچھنے پر بولے کہ ابا حضور میں آپ کا فرزند ارجمند ہوں اور آپ کی بے احتیاطی کی وجہ سے دو دن بعد ہی میں انیس سال اور دو دن کا ہوگیا ہوں کیونکہ آپکی لاپرواہی کی وجہ سے تاریخ پیدائش میں بیس کے بعد کسی نے 01 لگا کر 2001 کردیا۔ اب ایسے نابالغ اور قبل ازوقت بالغ بچے کا آپ کیا کریں گے؟ سوائے صحافی بنانے کے اور اسکا کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ ایسے لوگ نابالغ میڈیا میں چل جاتے ہیں کہیں اور نہیں۔ اسی طرح نکاح نامے میں 20 کو 2001 کرکے اگر ساس نے بیوی کی طرف سے یہ کہہ کر خلع کی درخواست دائر کردی کہ داماد نامرد ہے انیس سال ہوگئے لیکن بٹیا کی گود ہری نہیں ہوئی تو کیا ہوگا؟ نقصان تو ہوگیا نا؟ 
تو جناب مشورہ دینے والوں کا مشورہ مانئے اور ایک سال چوکنے رہئے۔
(سیف اللہ خان مروت)

پیر، 16 دسمبر، 2019

شہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے

اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی میں دو طلبہ تنظیموں میں تصادم کے نتیجے میں ایک طالبعلم جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے۔ یاد رہے کہ یہ لوگ یہاں کوئی عسکری تربیت لینے نہیں آئے تھے بلکہ علم حاصل کرنے آئے تھے۔ یہ سب لوگ بہت امیر کبیر خاندانوں کے بچے بھی نہیں کیونکہ وہ زیادہ تر بیرون ملک یا نجی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں۔ ان میں اکثریت مڈل کلاس اور لوور مڈل کلاس خاندانوں کے بچے ہوں گے۔ ان میں بیشتر کے والدین نے اپنا پیٹ کاٹ کر انکے تعلیمی اخراجات پورے کئے ہوں گے۔ کچھ نے جائیداد بیچ کر روشن مستقبل کے خواب دیکھے ہوں گے کہ بچہ پڑھ لکھ کر کچھ بنے گا۔ کچھ کی ماؤں نے زیور بیچے ہوں گے۔ کئیوں کی بہنوں کی شادیاں اس لئے نہیں ہوئی ہوں گی کہ بھائی پڑھ لے کچھ کما کر بہنوں کے ہاتھ پیلے کرے گا۔ یہ سب حقائق ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر گھروں میں تعلیمی اخراجات اسی طرح پورے کئے جاتے ہیں۔ جو طالبعلم جاں بحق ہوا ہے اسکا تعلق گلگت سے بتایا جارہا ہے۔ گلگت بلتستان میں لوگ کتنی مشکل سے زندگی گزارتے ہیں اگر آپ میں سے کوئی وہاں گیا ہے تو خوب اندازہ ہوگا۔ جس بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کی ڈگری ہاتھ میں لئے گھر لوٹنے کے منتظر والدین نے اسکی لاش وصول کی ہوگی تو ایک بار تو ضرور پچھتائے ہوں گے کہ کاش اسے ہم اپنے ساتھ کھیتی باڑی کیلئے ادھر ہی رکھ لیتے اسلام آباد بھیجتے ہی نہیں۔ 
پچھلے دنوں طلبہ یونینز کی بحالی کی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ طلبہ نے عملی طور پر ثابت کردیا کہ وہ اس قابل نہیں کہ ان کی جتھے بندیوں کو باقاعدہ قانونی شکل دی جائے۔ وہ ماضی میں بھی کئی بار ثابت کرچکے ہیں۔ مشال خان کا واقعہ ابھی اتنا پرانا نہیں ہوا۔ 
شہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے 
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

طلبہ، وکیل اور ڈاکٹروں کی حرکتیں دیکھ کر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہمیں تعلیم کی نہیں تربیت کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے والدین بچوں کو سکول کالج یونیورسٹیوں میں بھیج کر سمجھ رہے ہیں کہ انکی تربیت ہورہی ہے جبکہ ہمارے نظام تعلیم میں معاشرتی علوم ابتدائی چند جماعتوں میں رٹا کر سمجھا جاتا ہے کہ فرض ادا ہوگیا۔ 


اتوار، 1 دسمبر، 2019

آزادی

آزادی بہت ضروری چیز ہے۔ ہر انسان آزاد پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں اپنی خوشی یا گھر والوں کی خوشی سے خود ہی شادی کرلیتا ہے۔ شادی کے بعد پھر آزادی چاہتا ہے۔ مرد کو عورت سے سے آزادی چاہئے۔ عورت کو مرد سے آزادی چاہئے۔ مرد کو عورت سے آزادی اسلئے چاہئے تاکہ وہ دوسری عورت کے ہاتھوں اپنی آزادی آزادانہ طور پر کھو دے۔ عورت کو آزادی کیوں چاہئے معلوم نہیں۔ شاید اسلئے کہ مرد اسے تنگ نہ کریں اور وہ آزادی سے جسکے ہاتھوں مرضی تنگ ہوں۔ عوام کو بھی آزادی چاہئے۔ تاکہ وہ آزادانہ طور پر جسکو چاہیں اپنا آقا منتخب کرسکیں۔ طلباء کو بھی آزادی چاہئے تاکہ وہ آزادی سے سیاستدانو کی خدمت کرسکیں۔  ملازمین کو بھی آزادی چاہئے تاکہ وہ اپنی مرضی سے جب چاہیں جیسے چاہیں ملازمت کریں۔ تاجروں کو بھی آزادی چاہئے تاکہ وہ آزادانہ تجارت کرسکیں۔ جتنے کی چیز جتنے میں بیچیں یا چاہے نہ بیچیں گودام میں رکھ لیں۔ گوالے کو بھی آزادی چاہئے تاکہ وہ آزادانہ طور پر پانچ کلو دودھ دینے والی اکلوتی بھینس کا ایک من دودھ بیچ سکیں۔ پولیس والوں کو بھی آزادی چاہئے تاکہ وہ آزادی سے اپنی ملازمت کرسکیں۔ فوج کیلئے بھی آزادی ضروری ہے تاکہ وہ ملک کیلئے حکمران ڈھونڈ سکیں۔ اگر ڈھونڈنے میں وقت لگے تو وہ تب تک بادل ناخواستہ یہ بوجھ خود اٹھا سکیں۔ قوموں کو بھی آزادی چاہئے۔ لیکن قومیں تو آزاد ہوتی ہیں پھر آزادی کیوں چاہئے؟ تاکہ وہ آزادی سے کسی آزاد قوم کو اپنا آقا چن سکیں۔ آزادی بہت ضروری ہے۔
مشق
آزادی کیا ہے اسکی اقسام بیان کریں؟
2۔ کیا آزادی کو بھی یہ آزادی حاصل ہے کہ جسکی چاہے ہولے؟ 
3۔ کیا آزادی کیلئے قربانی ضروری ہے شادی شدہ افراد آزادی حاصل کرنے کیلئے کیا کریں؟
4۔ آزادی حاصل کرنے کیلئے آزاد ہونا ضروری ہے؟

ye zabta hai ki baatil ko mat kahun baatil | ضابطہ | Habib Jalib

یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازوئے قاتل یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ د...