اس بلاگ کا بنیادی مقصد تو میری کی ہوئی سمع خراشی کو یکجا کرنا تھا۔ ماضی میں جتنا یہاں وہاں، ادھر اُدھر لکھا اس کے یا تو بچوں نے جہاز بنا کر اڑادئیے یا ردی کی نذر ہوگئے۔ چینی زبان کا ایک مقولہ ہے کہ پھیکی سے پھیکی روشنائی اچھے سے اچھے حافظے سے بدرجہا بہتر ہے۔ لیکن روایتی کاغذ اور روشنائی کی وجہ سے بہت سا کام ضائع کرچکا ہوں اسلئے یہ طریقہ آزما رہا ہوں۔ دعا گو ہوں کہ اب کی بار ای میل کا پاس ورڈ نہ بھول جائے۔ تنقید و اصلاح کی مکمل آزادی ہے۔
پیر، 20 اپریل، 2020
پرے شانی
اتوار، 19 اپریل، 2020
جنٹلمین
جب تعلیم و تربیت اختتام کے قریب پہنچی تو ہم سب کو پی سی ہوٹل بھوربن میں ایک دن ظہرانے کے لئے لے جایا گیا۔ پہلی بار کسی بڑے ہوٹل میں جانا ہوا تھا۔ فرش اتنا صاف تھا کہ پوری چھت اس میں واضح نظر آرہی تھی۔ پہلی نظر دیکھنے کے بعد ہمیں لگا کہ یا تو پانی کا تالاب ہے یا پھر آئینہ۔ اس فرش پر اگر ہم اکیلے ہوتے تو کبھی جوتوں سمیت چلنے کی ہمت نہ کرتے بلکہ اگر گرمیاں ہوتیں تو شاید کپڑے اتار نہانے کیلئے چھلانگ ہی لگادیتے۔ خیر دوسروں کی دیکھا دیکھی ہم بھی بادل ناخواستہ اور سہمے سہمے جوتوں سمیت داخل ہوئے۔ ہوٹل میں لوگ تھے لیکن شور نہیں تھا۔ سب لوگ بڑی مدھم آواز میں گفتگو کر رہے تھے جس سے ہماری گھبراہٹ اور بڑھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد بیت الخلا جانا ہوا۔ باہر نکل کر ہاتھ دھونے کیلئے بیسن کی طرف گیا تو نل کھولنے کیلئے کوئی ناب موجود نہیں۔ میں نے دائیں بائیں اوپر نیچے ٹٹول کر دیکھا لیکن بے سود۔ باہر جا کر تھوڑی دیر میں کھانا کھانا تھا اس لئے ہاتھ دھوئے بغیر بھی نہیں جاسکتا تھا۔ جیسے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ چمچ چھری کانٹے کو دیکھ کر ہی آدھی بھوک مرجاتی ہے، تو لا محالہ روٹی ہاتھوں سے ہی توڑنی تھی۔ لہذا نے فیصلہ کیا کہ تھوڑی دیر انتظار کرتے ہیں کہ کوئی اور ہاتھ دھوئے تو طریقہ سیکھ لیتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ہی ایک بندہ آیا اور ہاتھ دھوکر میری طرف بڑھنے لگا۔ پہلے تو میں سمجھا مجھ سے ملنے آرہا ہے لیکن جب اس نے ایکسکیوز می کہا تو میں حیران ہوا کہ میں راستے میں تو نہیں کھڑا نہ میرے پیچھے دروازہ ہے۔ بہرحال میں نے اسے ایکسکیوزا اور ایک طرف ہوگیا۔ میں جہاں کھڑا تھا وہاں میرے پیچھے دیوار پہ کوئی ڈبہ سا تھا۔ یکدم سے اس ڈبے سے غوں غوں کی آوازیں نکلیں تو میں گھبرا کر دو قدم اور پیچھے ہٹ گیا۔ اس میں کچھ نکل نہیں رہا تھا لیکن وہ اپنے ہاتھ آپس میں رگڑ رہا تھا۔ جب وہ چلا گیا تو میں پھر بیسن کے پاس گیا لیکن نل پانی دینے پر آمادہ نہ ہوئی۔ اب میں نے ٹھان لی کہ پانی نکال کر ہی رہوں گا چاہے لوہے کے نل کو نچوڑنا ہی کیوں نہ پڑے۔ ادھر ادھر ہاتھ مارتے ہوئے اچانک نل سے پانی نکل کر میرے ہاتھ پر گرا تو میں گھبرا کر پیچھے ہٹا اور گرتے گرتے بچا۔ دائیں بائیں نظر دوڑائی کہ کسی نے دیکھا تو نہیں اور یہ دیکھ کر تسلی ہوئی کہ وہاں کوئی نہیں تھا۔ ایک بار پھر ڈرتے ڈرتے ہاتھ بڑھایا اور نل کے نیچے بیسن کو دبانے ہی والا تھا کہ اس سے پہلے ہی پانی نکلنا شروع ہوگیا۔ پہلے میں سمجھا شاید نل کے آس پاس کوئی جگہ دبنے سے پانی نکلا ہے۔ لیکن اب اندازہ ہوگیا کہ نل کے نیچے ہاتھ جائے تو پانی خودکار طریقے سے نکلتا ہے۔ ہاتھ دھو کر وہاں سے تیزی سے نکل گیا۔
باقی تفصیلات پھر سہی۔
جب عزت بال بال بچ (یادیں)
ہفتہ، 11 اپریل، 2020
ضرورت مولوی
سیف اللہ خان مروت
(یہ 1997 کا ایک حقیقی واقعہ ہے)
پیر، 30 دسمبر، 2019
مشتری ہوشیار باش
پیر، 16 دسمبر، 2019
شہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے
اتوار، 1 دسمبر، 2019
آزادی
آزادی بہت ضروری چیز ہے۔ ہر انسان آزاد پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں اپنی خوشی یا گھر والوں کی خوشی سے خود ہی شادی کرلیتا ہے۔ شادی کے بعد پھر آزادی چاہتا ہے۔ مرد کو عورت سے سے آزادی چاہئے۔ عورت کو مرد سے آزادی چاہئے۔ مرد کو عورت سے آزادی اسلئے چاہئے تاکہ وہ دوسری عورت کے ہاتھوں اپنی آزادی آزادانہ طور پر کھو دے۔ عورت کو آزادی کیوں چاہئے معلوم نہیں۔ شاید اسلئے کہ مرد اسے تنگ نہ کریں اور وہ آزادی سے جسکے ہاتھوں مرضی تنگ ہوں۔ عوام کو بھی آزادی چاہئے۔ تاکہ وہ آزادانہ طور پر جسکو چاہیں اپنا آقا منتخب کرسکیں۔ طلباء کو بھی آزادی چاہئے تاکہ وہ آزادی سے سیاستدانو کی خدمت کرسکیں۔ ملازمین کو بھی آزادی چاہئے تاکہ وہ اپنی مرضی سے جب چاہیں جیسے چاہیں ملازمت کریں۔ تاجروں کو بھی آزادی چاہئے تاکہ وہ آزادانہ تجارت کرسکیں۔ جتنے کی چیز جتنے میں بیچیں یا چاہے نہ بیچیں گودام میں رکھ لیں۔ گوالے کو بھی آزادی چاہئے تاکہ وہ آزادانہ طور پر پانچ کلو دودھ دینے والی اکلوتی بھینس کا ایک من دودھ بیچ سکیں۔ پولیس والوں کو بھی آزادی چاہئے تاکہ وہ آزادی سے اپنی ملازمت کرسکیں۔ فوج کیلئے بھی آزادی ضروری ہے تاکہ وہ ملک کیلئے حکمران ڈھونڈ سکیں۔ اگر ڈھونڈنے میں وقت لگے تو وہ تب تک بادل ناخواستہ یہ بوجھ خود اٹھا سکیں۔ قوموں کو بھی آزادی چاہئے۔ لیکن قومیں تو آزاد ہوتی ہیں پھر آزادی کیوں چاہئے؟ تاکہ وہ آزادی سے کسی آزاد قوم کو اپنا آقا چن سکیں۔ آزادی بہت ضروری ہے۔
مشق
1۔ آزادی کیا ہے اسکی اقسام بیان کریں؟
2۔ کیا آزادی کو بھی یہ آزادی حاصل ہے کہ جسکی چاہے ہولے؟
3۔ کیا آزادی کیلئے قربانی ضروری ہے شادی شدہ افراد آزادی حاصل کرنے کیلئے کیا کریں؟
4۔ آزادی حاصل کرنے کیلئے آزاد ہونا ضروری ہے؟
ye zabta hai ki baatil ko mat kahun baatil | ضابطہ | Habib Jalib
یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازوئے قاتل یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ د...
-
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا...
-
بڑی مدت بعد آج مرزا عبدالودود بیگ نظر آئے۔ بہت رنجیدہ اور غصے میں تھے۔ پوچھا مرزا کیسی گر رہی ہے؟ کہنے لگے آنکھوں کا علاج کس ڈاکٹر سے کروا ر...
-
پچھلے دنوں ایک دوست نے بیٹھے بیٹھے سوال جھاڑ دیا کہ تم عمر کے اس آخری حصے میں بھی ہر وقت اتنے خوش دکھائی دیتے ہو تو تمہارا بچپن ...