منگل، 13 اگست، 2019

گھبرانا نہیں (ڈالر کہانی)

گھبرانا نہیں (ڈالر کی کہانی)
آج کل جو چیز سب سے زیادہ موضوع بحث ہے وہ ڈالر اور اسکا بڑھتا ہوا نرخ ہے۔ اتنے تسلسل سے اس موضوع پر بات ہورہی ہے کہ ایک راج مزدور سے لیکر ماہرین معاشیات تک سب اسی موضوع پر بحث کرتے نظر آتے ہیں۔ عام آدمی اور بالخصوص بزنس کے طالبعلم کے ذہنوں میں سوالات جنم لے رہے ہیں کہ راتوں رات ڈالر کی قیمت کیسے بڑھی؟ اس اضافے کے پیچھے کونسے عوامل کار فرما ہیں۔ میں انتہائی سادہ اور عام فہم الفاظ میں بتانا چاہوں گا لیکن اس سے پہلے ایک چھوٹی کہانی سناؤں گا جو اس ساری صورتحال کو واضح کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ 
چائنیز بمبو یا بانس کی کہانی شاید آپ نے سنی ہو۔ چائنیز بانس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب یہ بویا جاتا ہے تو اسے مسلسل پانی دیا جاتا ہے۔ ایک سال میں یہ زمین سے نہیں نکل پاتا۔ دوسرے سال بھی سطح زمین ہر کچھ نظر نہیں آتا۔ تیار سال بھی زمین کے اندر ہی رہتا ہے۔ چوتھے سال بھی نظر کچھ نہیں آتا لیکن بونے والے مسلسل پانی دیتے رہتے ہیں۔ پانچویں سال جاکر یہ زمین سے نکلتا ہے اور پھر چھ ہفتے کی قلیل مدت میں یہ اسی فٹ تک اونچا ہوجاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ بانس پانچ سالوں میں اسی فٹ اگا یا چھ ہفتے میں؟ 
اب ہم آتے ہیں ڈالر کی طرف۔ کسی بھی ملک میں زرمبادلہ (دوسرے ممالک کی کرنسی) کی ایک محدود مقدار ہوتی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اہم ڈالر اسلئے ہے کہ سب سے زیادہ لین دین دنیا میں ڈالر میں ہوتا ہے۔ ڈالر کی قیمت طے کرنے کے سادہ الفاظ میں دو طریقے ہیں۔ 
ایک طریقہ تو (براہ راست مداخلت کہا جاتا ہے)یہ ہے کہ آپ کے ملک کا مرکزی بینک (ہمارا مرکزی بینک سٹیٹ بینک ہے) اسکی قیمت کا تعین کرے۔ فرض کریں سٹیٹ بینک طے کرے کہ ڈالر سو روپے سے زیادہ نہیں ہوگا۔ لیکن یہ صرف حکم نہیں ہوتا بلکہ مرکزی بینک ڈالر سو روپے تک محدود رکھنے کیلئے مارکیٹ میں ڈالر کی ترسیل جاری رکھتا ہے۔ جب بھی ڈالر کی طلب مارکیٹ میں بڑھتی ہے تو فطری طور پر ڈالر کا ریٹ بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ ریٹ کو کم رکھنے کیلئے مرکزی بینک مارکیٹ میں ڈالر کی ترسیل بڑھا دیتا ہے۔ مرکزی بینک یہ اس صورت میں کرسکتا ہے جب اسکے پاس وافر مقدار میں ڈالر موجود ہو۔ لیکن اگر ڈالر کی پہلے سے کمی ہو تو پھر کیا کیا جائے؟ دو صورتیں ممکن ہیں۔ یا تو ملک کے اپنے ذرائع آمدن ہوں جن سے ڈالر ملک میں آئے۔ ان ذرائع میں،
۱- برآمدات یعنی وہ سامان جو آپ دوسرے ملکو ں کو بیچ کر ڈالر لیتے ہیں۔ 
۲- باہر سے کوئی آکر آپ کے ملک میں سرمایہ کاری کرے کاروبار کرے وغیرہ
۳- آپ کے ملک کے لوگ باہر سے پیسہ کما کر قانونی طریقے سے بینکوں کے ذریعے ملک بھجوائیں 
دوسری صورت بیرونی مدد یا قرضے کی ہوتی ہے۔ مدد چونکہ مخصوص حالات میں اور محدود ہوتی ہے اسلئے سود پر قرض لینا پڑتا ہے۔ تو اگر مرکزی بینک کے پاس اپنے ذرائع آمدن نہ ہوں جیسے پاکستان کا مسئلہ ہے کہ ہماری برآمدات پچھلے پانچ سالوں میں ستائیس فیصد کم ہوئی ہیں تو ایک ہی صورت رہ جاتی ہے قرض لینے کی۔ مرکزی بینک قرض لیکر مارکیٹ میں نکالتا رہے۔ ڈالر رک جائیگا لیکن آپ قرضوں کے بوجھ تلے دبتے چلے جائیں گے جو آنے والوں حکومتوں اور نسلوں نے سود سمیت واپس کرنا ہے۔ 
اب آتے ہیں ڈالر کے نرخ کے تعین کی دوسری صورت کی طرف۔ اسے فری فلوٹ ایکسینچ ریٹ کہا جاتا ہے۔ اس میں مرکزی بینک مداخلت نہیں کرتا۔ اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ڈالر کے ریٹ کا تعین طلب اور رسد کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں ڈالر اپنے حقیقی نرخ پر ملتا ہے اور اگر مارکیٹ میں زر مبادلہ کی کمی ہو تو نرخ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مُک تصور دورانئے میں اس سے مہنگائی بڑھتی ہے روپے کی قدر کم ہوتی جاتی ہے لیکن ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر اسکا اثر نہیں ہوتا۔ 
ان دونوں صورتوں کا سادہ الفاظ میں موازنہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ فرض کریں آپکو بخار ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ بخار فوری طور پر اتر جائے اسکے بعد بھلے آپکا بخار ٹائفائڈ اور معدے کے کینسر میں تبدیل ہو۔ تو آپ کو جیسے بخار ہوتا ہے آپ پینا ڈول، پونسٹان اور اسپرین کھا کر بخار کم کرلیتے ہیں لیکن بخار کی اصل وجہ پر توجہ نہیں دیتے۔ دوسری صورت میں آپ کہتے ہیں کہ نہیں مجھے ابھی بخار قبول ہے لیکن میں نے ڈاکٹر سے تشخیص کرواکر اور اسکی وجہ معلوم کرکے اسکا علاج کرنا ہے۔ یہ طریقہ ذرا لمبا ہے اور وقت لیتا ہے اور مریض کیلئے تکلیف دہ بھی ہوتا ہے۔ 
موجودہ حکومت نے دوسری صورت کا انتخاب کیا ہے۔ اگر وہ اپنے ذرائع آمدن (جو اوپر بیان کئے ہیں) بڑھا لیں اور قرضوں پر انحصار کم سے کم کرلیں تو آہستہ آہستہ ڈالر نیچے آئیگا، روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا اور یہ حقیقی اضافہ ہوگا۔ 
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک نو مہینے کی قلیل مدت میں ڈالر اتنی سرعت کیساتھ اوپر کیسے گیا؟ 
اس سوال کا جواب چائنیز بانس کی کہانی میں ہے۔ اس اضافے کی آبیاری ایک طویل مدت سے کی جارہی تھی۔بخار کا وقتی علاج کیا جارہا تھا۔ اب یہ بخار ٹائیفائڈ میں تبدیل ہوچکا ہے لیکن ابھی کینسر نہیں بنا۔ اپنے محدود علم کے مطابق میری ذاتی رائے یہ ہے کہ حکومت کا یہ اقدام اچھا ہے بشرطیکہ وہ،
۱- برآمدات میں اضافے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں 
۲- بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر راغب کریں 
۳- بیرون ملک پاکستانیوں کا پیسہ ملک میں لانا آسان بنا دیں اور ہنڈی حوالے کے کاروبار کرنے والوں سخت سزاؤں سے حوصلہ شکنی کریں۔ 
۴- ڈالر کی زخیرہ اندوزی کو روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔ 
اور عوام سے اتنی سی اپیل ہے کہ گھبرائیں نہیں۔ افواہوں پر یقین نہ کریں۔ تحقیق کریں اور چیزوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں۔ چھپ چھپ کر تھوڑا تھوڑا ضرور گھبرائیں لیکن زیادہ نہ گھبرائیں۔ قومیں مشکل حالات کا مقابلہ کرکے ہی بنتی ہیں۔ جو ترقی یافتہ ممالک ہیں وہ ان سب مرحلوں بلکہ ان سے کہیں زیادہ مشکل مرحلوں سے گزر کر یہاں پہنچی ہیں۔ 
ساتھ یہ بھی گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کرکے لوگوں میں آگاہی پیدا کریں تاکہ گھبراہٹ کچھ کم ہو۔

آئی ایم ایف کیا ہے اور کیا کرتا ہے؟

آئی ایم ایف کیا ہے اور کیا کرتا ہے؟ 
آئی ایم ایف یعنی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ جسے اردو میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اقوام متحدہ کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ جس طرح اقوام متحدہ کے ہر ادارے کا اپنا ایک مخصوص کام ہوتا ہے جیسے کوئی بچوں کی بہبود کو دیکھتا ہے تو کوئی عالمی غذائی ضروریات کو تو کوئی مہاجرین کو بالکل اسی طرح آئی ایم ایف بھی ایک مخصوص شعبے کو دیکھتا ہے اور وہ ہے ملکوں کی معیشت۔ 
اس کا ہیڈ کوارٹر واشنگٹن میں ہے اور اسکی بنیاد ۱۹۴۴ میں رکھی گئی اور یہ ۱۹۴۵ میں باقاعدہ وجود میں آیا اور باقاعدہ کام شروع کیا۔ ابتدائی طور پر اسکے ارکان کی تعداد انتیس تھی جبکہ اس وقت ممبرز کی تعداد ۱۸۹ ہے۔ 
پاکستان میں آئی ایم ایف کے بارے میں عمومی تصور یہ پایا جاتا ہے کہ یہ کوئی بہت ہی ظالم قسم کا ادارہ ہے جو ملکوں کو قرض دیکر اپنے پنجے میں جکڑ لیتا ہے اور پھر ان سے اپنی مرضی کے کام کرواتا ہے۔ ایسا بالکل نہیں۔ ہاں اس حد تک بات ضرور درست ہے کہ آئی ایم ایف قرضوں کیساتھ شرائط لگاتا جن پر آگے جاکر بات ہوگی، لیکن حکمرانوں سے کرپشن کروانا، ملک کا پیسہ چوری کرکے بیرون ملک جائیدادیں خریدنا، سیاسی مخالفوں کو قتل کروانا اور کردار کشی کروانا، جھوٹ دھوکہ فریب ملاوٹ غذائی اجناس کی مصنوعی قلت اور ماہ رمضان میں مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آجانا، ان سب کیساتھ آئی ایم ایف کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ 
بین الاقوامی تجارت میں ہوتا یہ ہے کہ ہر ملک اپنی کچھ چیزیں دوسرے ممالک کر بیچتا ہے اور اسی طرح جو زر مبادلہ کماتا ہے اس سے چیزیں خریدتا ہے۔ اگر ملک زیادہ چیزیں بیچتا ہے اور کم خریدتا ہے تو اسے ٹریڈ سرپلس یا تجارتی اضافہ یا کمائی کہا جاتا ہے یعنی اس ملک کیلئے مثبت علامت ہے۔ اسی طرح اگر ملک زیادہ چیزیں خریدتا ہے اور کم بیچتا ہے تو اسے ٹریڈ ڈیفیسٹ یا تجارتی خسارہ کہا جاتا ہے۔ یاد رکھئے کہ پاکستان کو ہمیشہ تجارتی خسارے کا سامنا رہا ہے۔ مسلسل تجارتی خسارے کا مطلب ہے کہ ملک پر ایک وقت ایسا آجائیگا کہ اس کے پاس بیرونی دنیا سے کچھ خریدنے کیلئے زر مبادلہ نہیں ہوگا۔ ایسی صورتحال سے بچنے کیلئے اقوام متحدہ کا یہ ادارہ بنایا گیا ہے کہ جب ممالک کے پاس کوئی اور چارہ نہ رہے تو پھر وہ آئی ایم ایف سے قرضہ لیکر وقتی طور پر اپنا کام چلا لیتے ہیں۔ 
اب یہاں دو اہم سوال پیدا ہوتے ہیں جو اکثر لوگ گفتگو کے دوران پوچھتے ہیں اور پھر جواب نہ پاکر ایسے سر ہلاتے ہیں جیسے آئی ایم ایف کو رنگے ہاتھوں پکڑلیا ہو۔ 
۱- آئی ایم ایف کے پاس پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ 
۲- دنیا کے دوسرے ممالک کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ غریب ملکوں کی مدد کریں بالخصوص یہودی اور عیسائی مسلمانوں کی مدد کیوں کرتے ہیں؟ 
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ آئی ایم ایف میں رکن ممالک اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں جسے کوٹا کہا جاتا ہے اور یہ حصہ بقدر جثہ ہوتا ہے یعنی جتنی بڑی معیشت اتنا بڑا حصہ۔ تاہم اگر ضرورت پڑے تو آئی ایم ایف کوٹا کے علاوہ رکن ممالک یا دیگر اداروں سے قرض بھی لے سکتا ہے۔ 
دوسرے اہم سوال کا جواب یہ ہے کہ آپ کا شک اپنی جگہ بالکل درست ہے۔ دنیا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ مریں یا جئیں۔ وہ صرف اسلئے مدد کر رہے ہیں تاکہ آپ انکی موت کا سبب نہ بنیں۔ اسکی مثال ایسی ہے جیسے آپ کے گھر میں آگ لگی ہو اور دو گھر دور آپ کا ایک ایسا پڑوسی جسکے ساتھ آپکی دشمنی ہے آگ بجھانے آجائے تاکہ یہ آگ اسکے گھر تک نہ پہنچے۔ دنیا کی معیشت زنجیر کی طرح ہے جس میں ہر ملک کی معیشت ایک کڑی ہے۔ ایک کڑی ٹوٹنے کا مطلب ہوتا ہے زنجیر کا ٹوٹنا۔ ایک ملک کی معیشت کی ناکامی کیسے عالمی معیشت کیلئے خطرہ ہوسکتی ہے یہ ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے لیکن یہاں اسکو سادہ طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ایک ملک دیوالیہ ہوجاتا ہے تو وہ نہ تو دوسرے ممالک کو قرضوں کی ادائیگی کرسکتا ہے نہ مزید کچھ خرید سکتا ہے۔ جب قرضے ادا نہیں کرے گا تو جن کا قرضہ واپس کرنا تھا ایک تو وہ سارے ممالک براہ راست متاثر ہوں گے۔ جن ممالک سے خریداری کرنی تھی ان سے خریداری رک جائیگی اور یوں انکی معیشت کو بھی دھچکا لگے گا۔ یوں ایک ملک کے دیوالیہ پن سے براہ راست دس پندرہ ممالک متاثر ہوں گے۔ لیکن بات یہاں رکے گی نہیں۔ وہ جو دس پندرہ ممالک متاثر ہوں گے ان میں سے ہر ملک کم و بیش اتنے مزید ممالک کی معیشت کو متاثر کریں گے اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور پوری دنیا کو معاشی تباہی کے دہانے پر لے آئے گا۔ ایک سوال یہ بھی ذہن میں آتا ہے کہ چھوٹی معیشتیں تو چلو مجبور ہیں ڈر کے مارے مدد کرتی ہیں یہ بڑے بڑے ممالک کیوں مدد کرتے ہیں انکی تو معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ اسکا جواب یہ ہے کہ ان بڑی معیشتوں کے خریدار اور گاہک یہی چھوٹی معیشتیں ہیں کسی کو اسلحہ بیچتے ہیں تو کسی کو غذا۔ اگر گاہک خریداری نہ کرسکیں گے تو بڑی معیشتیں بھی براہ راست متاثر ہونگیں۔ 
چلیں یہاں تک تو بات کلئر ہوگئی کہ ٹھیک ہے یہ ہمارے جانی دشمن کافر (بقول ایک مولوی صاحب کے) اپنی جان بچانے کیلئے مدد کر رہے ہیں ہماری کوئی فکر نہیں۔ لیکن یہاں ایک سوال اور لوگ کرتے ہیں کہ اگر آئی ایم ایف ہمارے ملک پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا تو پھر قرضے کیساتھ اتنی شرائط کیوں عائد کردیتا ہے؟ دیتا تو قرضہ ہی ہے کوئی خیرات تو نہیں اور قرضہ ہم نے واپس بھی کرنا ہوتا ہے۔ 
اسکی مثال یوں سمجھ لیجئے کہ آپ کا ایک دوست آپکے پاس آتا ہے کہ جی بچہ بیمار ہے اسکے علاج کیلئےادھار  پیسے چاہئیں۔ آپ پیسے دے دیتے ہیں۔ کچھ دیر بعد آپ جارہے کہ راستے میں دیکھتے ہیں آپکا وہی دوست ناچنے والوں پہ انہی نوٹوں کی ویلیں کر رہا ہے اور پیسے پھینک رہا۔ اب آپ جب اسے منع کرتے ہیں تو جواب میں وہ کہتا ہے کہ میاں ادھار دیا تھا خیرات نہیں اسلئے چپ کرکے اپنا راستہ ناپو۔ آپ کو کیسا لگے گا اور آئندہ کیا کریں گے؟ یا تو قرض دیں گے نہیں یا اگر مجبوراً دیں گے تو اس قرض کیساتھ شرائط لگائیں گے تاکہ قرض کی رقم ضائع نہ ہو اور مقروض اس قابل ہو کہ وقت آنے پر قرض واپس کرسکے۔بالکل یہی کچھ آئی ایم ایف کرتا ہے مقروض ممالک کیساتھ۔ چونکہ ہمارے سیاستدان ان قرضوں کو مطلوبہ مقاصد کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں اسلئے آئی ایم ایف شرائط لگا دیتا ہے۔ آئی ایم ایف کس قسم کی شرائط لگاتا ہے اور انکا مقصد کیا ہوتا ہے آئیے ذرا انکا جائزہ لیتے ہیں۔ 
 ۱- کوئی اثاثہ گروی رکھنا۔ 
سوائے چند قرضوں کے جو بہت غریب ممالک کو آسان شرائط پر دئیے جاتے ہیں تقریباً ہر قرضے کے بدلے آئی ایم ایف کوئی نہ کوئی اثاثہ گروی رکھتا ہے۔ اس وقت ہمارے موٹر ویز ، جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ کراچی، پاکستان ٹیلی وژن کے اثاثے، ریڈیو پاکستان کے اثاثے اور کئی دیگر اثاثے آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا آئی ایم ایف کو کیا فائدہ ہے؟ اگر خدا نخواستہ پاکستان وقت پر قرض واپس نہیں کرتا تو یہ اثاثے آئی ایم ایف کی تحویل میں چلے جائیں گے اور پھر پاکستان انکی کسی غیر ملکی چیز کی طرح فیس دے کر استعمال کرسکے گا۔ یہ تمام اثاثے پچھلی حکومتیں گروی رکھ چکی ہیں اور جو قسطیں ابھی واجب الادا تھیں وہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ان میں سے کئی اثاثے آئی ایم ایف کے قبضے میں چلے جاتے اور اسی صورتحال سے بچنے کیلئے حکومت کو سخت شرائط پر قرض ادا کرنے کیلئے مزید قرض لینا پڑا۔ 
۲- اخراجات میں کمی۔ 
آئی ایم ایف کی دوسری شرط اخراجات میں کمی کی ہوتی ہے۔ ہمارے اخراجات سے انہیں کیا تکلیف ہے بھلا؟ وہ کونسا ہمارے مامے چاچے ہیں؟ درحقیقت انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کر رہے ہیں وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہم عیاشی میں اتنے پیسے نہ اڑا دیں کہ جب قرض واپس کرنے کا ٹائم آئے تو ہمارے پاس کچھ نہ ہو۔ 
۳- ملکی کرنسی کی قدر میں کمی 
ملکی کرنسی کی قدر میں کمی اسلئے کروائی جاتی ہے تاکہ کرنسی کی قیمت زیادہ رکھنے کیلئے قیمتی زر مبادلہ استعمال نہ کیا جائے۔ اسکے بارے میں پچھلے مضمون میں تفصیل سے بات ہوچکی ہے کہ کرنسی کی قیمت کیسے کنٹرول کی جاتی ہے۔ عموماً سیاستدان حکومت کے اختتام سے کچھ عرصہ پہلے قومی خزانے سے بے پناہ پیسہ لٹا کر معیشت کو ایک مصنوعی رنگ روپ دے دیتے ہیں ڈالر کم کردیا جاتا ہے تیل گیس اور غذائی اجناس پر ٹیکس کم کرکے یا سبسڈی دیکر سب اچھا دکھایا جاتا ہے اور پھر الیکشن مہم میں کہا جاتا ہے کہ دیکھو معیشت اٹھ رہی ہے بس ہمیں پالیسی کے تسلسل کیلئے ایک بار پھر حکومت چاہئے اور اگر ایسا نہ ہوا تو ملک تباہ ہوجائیگا۔ پھر جب نئی حکومت آتی ہے اور وہ ان چیزوں کو روکتی ہے تو پچھلی حکومت کے ارکان بھی یہی کہتے ہیں کہ دیکھو معیشت کا بیڑہ غرق کردیا۔ حالانکہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ بندی کے تحت انہی کا کیا دھرا ہوتا ہے۔ 
۴- تجارتی آزادی 
آئی ایم ایف تجاری آزادی کی شرط لگاتا ہے۔ یہ ان خفیہ ہتھیاروں میں سے ایک ہے جن سے دنیا کی کئی معیشتیں تباہ کردی گئی ہیں اور ان پر باقاعدہ طور پر قبضہ جمایا گیا ہے۔ دراصل غریب ممالک، امیر ممالک کیلئے اچھی منڈیاں ہیں جہاں انکا مال بکتا ہے۔ اگر غریب ممالک آزادانہ تجارت کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کریں گے اور دوسرے ممالک کو اپنی منڈی تک رسائی نہیں دیں گے تو اس سے انکی معیشت متاثر ہوگی۔ لیکن یہ اسکی منفی سائیڈ ہے۔ مثبت سائیڈ یہ ہے کہ آپ کو بھی دوسرے ممالک کی منڈیوں تک رسائی ملتی ہے اور آپ بھی اپنی چیزیں دوسروں کو بیچ سکتے ہیں اور اپنی زر مبادلہ کی پوزیشن بہتر کرسکتے ہیں۔ 
۵- بجٹ کو متوازن کرنا۔ 
آئی ایم ایف کی ایک شرط متوازن بجٹ بھی ہے۔ ملک کا بجٹ حقیقت پسندانہ ہو اور اپنے اہداف پورے کرے۔ بجٹ میں خسارہ بالکل نہ ہو یا کم دے کم ہو۔ لیکن بجٹ ہوتا کیا ہے؟ بجٹ سادہ ترین الفاظ میں ملک کی پورے سال کی آمدن اور اخراجات کا گوشوارہ ہوتا ہے۔ کل کتنے پیسے حکومت اکٹھا کرے گی ٹیکسوں سے اور کہاں کہاں خرچ کرے گی۔ جب ٹیکس اکٹھا نہیں کیا جاتا اور خرچہ کردیا جاتا ہے تو اس فرق کو بجٹ خسارہ کہا جاتا ہے۔ پاکستان کا بجٹ پچھلے پچاس سال سے خسارے میں ہی چل رہا ہے۔ مطلب یہ کہ آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہیں۔ اس کمی کو پورا کرنا کیلئے اندرون ملک قرضے لئے جاتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے مجموعی اندرونی قرضے ۱۷۰ کھرب روپے واجب الادا ہیں۔ 
۶- سبسڈی کا خاتمہ
آئی ایم ایف کی ایک شرط سبسڈی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ سبسڈی کیا ہے؟ اگر آٹا مارکیٹ میں پچاس روپے کلو ہے اور حکومت دس روپے فی کلو سرکاری خزانے سے ادا کرکے آٹا عوام کو چالیس روپے کا پہنچائے تو یہ دس روپے فی کلو سبسڈی ہے۔ آئی ایم ایف کیوں اسکے خلاف ہے؟ اسکی وجہ یہ ہے کہ اس سے حکومتی اخراجات بڑھ جائیں گے جس سے بجٹ خسارے کا سامنا ہوگا اور مقروض ملک قرضہ وقت پر ادا نہیں کرسکے گا۔ آئی ایم ایف کی یہی شرط ہے جسکی بنیاد پر حزب اختلاف کے سیاستدان کہتے ہیں کہ عوام پر مہنگائی کا بم گرایا گیا ہے۔ یہ بم ہر حکومت گراتی ہے۔ اور جو بھی حکومت میں نہیں رہتا یہی دعوٰی کرتا ہے کہ ان کا بم بہت چھوٹا تھا یہ تو ایٹم بم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بم ساری حکومتیں گراتی رہتی ہیں۔ 
اس ساری گفتگو سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آئی ایم ایف کوئی دشمن ادارہ نہیں بلکہ ملکوں کی مدد کرنے والا ادارہ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسکی پالیسیوں کا جھکاؤ ڈونر ممالک (جو آئی ایم ایف کو پیسے دیتے ہیں) کے مفادات کی طرف زیادہ ہوگا لیکن اصل مجرم آئی ایم ایف ہر گز نہیں۔ یاد رکھیے کہ آئی ایم سیف کبھی ہمارے پاس نہیں آیا اور ہماری سر پر بندوق رکھ کر نہیںُ کہا کہ مجھ سے قرضہ لو۔ قرضہ ہم نے خود لیا ہے اور پھر اس سے وقتی طور پر ضروریات پوری کرکے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کیلئے کچھ کرنے کی بجائے وہ پیسے ہمارے حکمرانوں نے اپنی انفرادی اور اجتماعی عیاشیوں میں اڑا دئیے اور پھر جاکر آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ 
عوام کے ذہنوں میں ایک سوال ضرور آتا ہے کہ اتنے قرضے لینے کے باوجود بھی ملک کی حالت خراب دے خراب تر ہوئی تو یہ قرضے کی رقم گئی کہاں؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کیلئے اپنے ملک میں چلنے والے ان کاروباروں کا تجزیہ کریں جو پچھلے کئی عشروں میں کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ اور پھر انکے مالکان ڈھونڈیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ مالک یا تو بالواسطہ یا بلاواسطہ ملک کے حکمران یا انکے حواری ہیں۔ اب اسکی کیا وجہ ہے کہ ذاتی کاروبار ترقی کر رہے ہیں اور سرکاری کاروبار خسارے میں ہیں؟ خسارے کی رقم کہاں جارہی ہے آپ سمجھ چکے ہوں گے۔ 
بہت سی برائیوں میں آئی ایم ایف کا ہاتھ ہوسکتا ہے لیکن یقین کیجئے لیموں کی قیمت بڑھانے میں آئی ایم ایف کا کوئی کردار نہیں۔ ہم سب چور ہیں اور موقعے کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب اپنے لوگوں کی جیبیں کاٹیں۔ کسان آج بھی لیموں پچاس روپے کلو کے حساب سے منڈی میں بیچتا ہے۔ جب آپ چارسو روپے کلو خریدتے ہیں تو ساڑھے تین سو کہاں جاتے ہیں؟ حق حلال کمانے والے حاجی، نمازی اور متقی نظر آنے والے کاروباری کی جیب میں۔

گالم گلوچ

گالم گلوچ (بالخصوص نوجوانوں کیلئے)

ایک زمانہ ہوتا تھا جب ذرائع ابلاغ جیسے اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی وژن آپ تک معلومات پہنچاتے رہتے تھے لوگوں کی ذہن سازی کرتے رہتے تھے لیکن لوگوں کے پاس جواب دینے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ خط لکھ لیا کرتے تھے۔ خط اگر موافق ہوتا تو اخبار رسالہ یا ریڈیو شائع/نشر کردیتا اور اگر مخالفت میں ہوتا تو ردی میں پھینک دیا جاتا تھا۔ پھر ماضی قریب میں سماجی رابطے بڑھ گئے۔ سوشل میڈیا میں انقلاب آیا۔ ہر شخص کے ہاتھ میں کمپیوٹر اور موبائل فون آگیا اور ہر شخص ہر کہی ہوئی بات اور ہر معاملے میں اپنی رائے دینے کے قابل ہوا۔ یہ ایک طرح سے انسان کی ترقی تھی لیکن دوسری طرف اس نے ہماری چند اخلاقی قدروں کو بھی بری طرح سے روند ڈالا۔ اس سے پہلے ایسے مکالمے آمنے سامنے ہوتے تھے اسلئے لوگ مخاطب کی عمر، علمیت اور سماجی مقام کا لحاظ کرتے ہوئے بات کرتے۔  لیکن اب دنیا میں کہیں بھی بیٹھے کسی شخص کو ایک محفوظ فاصلے اور محفوظ مقام سے آپ مخاطب کرسکتے ہیں۔ آپ اس یقین کیساتھ کہ مخاطب آپکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، کسی کو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایک عام شہری سے لیکر وقت کے حکمرانوں تک کے بارے میں آپ کھل کر رائے دے سکتے ہیں۔ آزادی ایک نعمت ہے۔ لیکن اس نعمت کیساتھ ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ 
مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے جو کچھ یوں ہے کہ جب پاکستان آزاد ہوا تو ایک نوجوان بیچ چوراہے زور زور سے اپنے بازو ہلاتا ہوا چل رہا تھا کہ اسکا ہاتھ ایک پاس سے گزرتے ہوئے شخص کی ناک پر جا لگا۔ مضروب شخص نے روک کر پوچھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ میری ناک پر کیوں مارا؟ جواب میں نوجوان بے پروائی سے بولا کہ جناب میں آزاد میں آزاد ملک کا آزاد شہری ہوں۔ میں اپنے ملک میں جیسے مرضی چلوں کسی کو کیا؟ مضروب شخص بولا “بر خوردار اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ آزاد ہیں۔ لیکن آپ کی آزادی کی حد وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے”۔
کچھ یہی صورتحال سوشل میڈیا کی ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ آپ سوشل میڈیا پر کسی کو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اس آزادی کے بھی کچھ حدود و وقیود ہیں۔ 
سوشل میڈیا پر کثیر تعداد آپ کو ایسے نوجوانوں کی نظر آئے گی جو ذرا سی سیاسی یا مذہبی اختلاف کی صورت میں گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس گالم گلوچ کا معاشرے کو کوئی فائدہ ہے؟ کیا کسی کو گالی دیکر آپ اپنا نقطہ نظر منوا سکتے ہیں؟ کیا گالی سننے کے بعد وہ آپ سے متفق ہوجائے گا؟ کیا اس شخص کی رائے میں  آپ اور آپ کے نقطہ نظر کے بارے میں کوئی مثبت تبدیلی آئے گی؟ ان سب باتوں کا ایک ہی جواب ہے “نہیں”۔ جب جواب نہیں ہے تو پھر گالی دینے کا فائدہ؟ یاد رکھیں کہ اختلاف قطعاً کوئی بری یا غلط چیز نہیں۔ اگر آپ سے اختلاف رکھنے والا کوئی دلیل د رہا ہے تو اسکی دلیل کو پرکھیں۔ اگر آپ کو دلیل صحیح لگتی ہے تو مان لیں اس میں کوئی برائی نہیں۔ اگر دلیل ناقص ہے تو اس پر تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے جرح کریں۔ اگر وہ مان جائے تو ٹھیک نہ مانے تو خاموش ہوجائیں اور اسے وقت دیں سوچنے اور سمجھنے کا۔ 
اب آتے ہیں دوسری طرف۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو گالی دینے میں پہل تو نہیں کرتے لیکن جب کوئی گالی دیتا ہے تو جواباً وہ بھی اپنی گالیوں کی کتاب کھول کر جواب میں گالیاں دینا شروع کردیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی آپ کو گالی دیتا ہے تو اسکا مقصد کیا ہوتا ہے؟ وہ آپ کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہے۔ اور جب آپ تکلیف کا اظہار کرتے ہیں تو اس میں اسکی تسکین ہے۔ یعنی وہ چاہتا ہے کہ آپ ردعمل کے طور پر اسے گالی دیں تاکہ وہ مزید گالیاں دے سکے۔ یعنی وہ اپنے اشاروں پر آپ کو چلانا چاہتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ تھوڑی دیر رک کر خود سے سوال پوچھیں کی کیا آپ اپنے طریقے سے اور اپنے انداز میں بات کرنا چاہتے ہیں یا جیسا گالی دینے والا چاہتا ہے ویسا ردعمل ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ میں ذاتی طور ان تمام تجربات سے گزرا ہوں۔ فیس بک سے بہت پہلے جب ایم ایس این اور یا ہو چیٹ روم ہوا کرتے تھے۔ تب سیاسی اختلافات نہیں ہوتے تھے لیکن مذہبی اختلافات ضرور ہوتے تھے۔ یاہو چیٹ رومز میں مسلمانوں، یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کے چیٹ رومز ہوتے تھے۔ ہم ایک دوسرے کے چیٹ رومز میں جاکر خوب گالیاں دیتے تھے۔ ایک مدت تک گالیاں دینے اور گالیاں سننے کے بعد میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اس گالم گلوچ کا آخر فائدہ کیا ہے؟ کیا میری گالیاں سن کر کسی دوسرے مذہب کا بندہ میری گالیوں سے متاثر ہوکر مسلمان ہوجائیگا؟ ہر گز نہیں۔ پھر گالی دینے کا فائدہ؟ جب میں نے گالیاں دینا چھوڑ کر نئی آئی ڈی بنائی اور گالی سے دلیل کی طرف آیا تو کئی اپنے مسلمان بھائی شک کرتے تھے کہ یہ دراصل یہودی یا عیسائی مبلغ ہے جو خود کو مسلمان ظاہر کر رہا ہے۔ 
آج کل سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پراختلافات بین المذاہب اور بین الاقوامی کی بجائے گلی محلے کی سطح پر آگئے ہیں۔ 
میری ایک گزارش ہے ان تمام نوجوانوں سے جو گالی دینے میں پہل کرتے ہیں یا جواباً گالی دیتے ہیں کہ آپ ایک مہینہ عہد کرلیں کہ آپ نے کسی کو کسی بھی صورت گالی نہیں دینی۔ گالی دینے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ اور دلیل کیلئے علم اور تحقیق چاہئیے اور یہ ذرا لمبا اور مشکل کام ہے۔ اسلئے جلد از جلد گالی دیکر سمجھ لیا کہ آپ نے اپنا فرض ادا کردیا۔ اگر کسی کی بات سے آپکو اختلاف ہے تو آپ فوراً گالی دینے کی بجائے تھوڑی دیر رک جائیں۔ اسکے نقطہ نظر کو پرکھیں اور تحقیق کریں۔ تحقیق کے نتیجے میں اسکی بات یا درست ثابت ہوگی یا غلط۔ اگر درست ثابت ہوجائے تو کھلے دل سے اسکے سامنے مان لیں۔ جب آپ اسکی بات تسلیم کریں گے اسکے بعد وہ آپکی غلط بات کو بھی بلا تحقیق اور سوچے سمجھے رد نہیں کریگا۔ اگر اسکی بات غلط ثابت ہوجائے تو جن بنیادوں پر بات غلط ہے وہ باتیں سامنے رکھ دیں کہ جناب میری تحقیق تو یہ کہہ رہی ہے جس سے آپ کی بات غلط ثابت ہورہی ہے۔ اب بھلے وہ جواب میں گالی بھی دے آپ گالی نہ دیں۔ جہاں تک برداشت کرسکیں اسکو نصیحت کریں اور اگر برداشت نہ ہوسکے تو کنارہ کرلیں۔ 
میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ایک مہینے بعد آپکی گالم گلوچ کی عادت چھوٹ جائیگی۔ اچھی بات پھیلاتے ہوئے اگر آپ کو گالی بھی پڑے گی بعد میں تنہائی میں سوچتے ہوئے آپ خود کو فاتح سمجھیں گے اور یہی احساس آپکے حوصلے کو ایندھن فراہم کرے گا۔ 
معاشرے میں بگاڑ بہت زیادہ ہے۔ مزید بگاڑ کا ذریعہ نہ بنیں۔ لوگوں کو اچھائی کی طرف بلائیں۔ اور بدلے میں جو سکون ملتا ہے اس سے لطف اندوز ہوں۔

گل ناز

صبح عینک گھر بھول گیا تھا۔ دفتر میں سارا دن بغیر عینک کے کام کرتے ہوئے سر بوجھل ہورہا تھا۔ دن بھی مصروف تھا اور شام کو بہت تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی۔ چھٹی میں ابھی 15 منٹ باقی تھے میں اپنی چیزیں سمیٹ رہا تھا۔ موبائل چیک کیا کہ گھر سے کسی چیز کی فرمائش ہو تو راستے سے لیتا جاوں۔ فیس بک پہ بہت ساری نئی فرینڈ ریکوئیسٹس آئی تھیں۔ میں نے جلدی جلدی سب کو ڈیلیٹ کرنا شروع کردیا۔ اچانک ایک نام پر آکر رک گیا۔ کسی گل ناز کی فرینڈ ریکویسٹ تھی۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔ پروفائل پکچر دیکھنے کی کوشش کی لیکن نیٹ کی رفتار کم تھی۔ میں نے جلدی سے ایکسپٹ کی اور موبائل جیب میں ڈال کر اٹھ کھڑا ہوا۔ گھر جاتے ہوئے سارا راستہ گل ناز خیالوں پہ چھائی رہی۔ کون ہوگی؟ کیسی ہوگی؟ کیا کہتی ہوگی؟ کہاں سے ہوگی؟ گھر پہنچتے پہنچتے میں نے اسے متاثر کرنے کا پورا پلان بنا لیا تھا۔ بات کہاں سے شروع کرنی ہے؟ سنجیدگی بہتر ہوگی۔ لیکن خواتین کو زیادہ سنجیدہ لوگ بھی تو پسند نہیں۔ چلیں ہلکا پھلکا مزاح بھی کرکے دیکھ لیں گے۔ یقیناً وہ جوانی کی تصاویر دیکھ کر متاثر ہوئی ہوں گی۔ لیکن اب کونسا اتنے بوڑھے ہیں؟ سفید بال اور چند ایک جھریاں اتنا بڑا عیب بھی نہیں۔ فرط جذبات میں بے اختیار گنگنانے لگے،
لہجے کو ذرا دیکھ جواں ہے کہ نہیں ہے 
بالوں کی سفیدی کو بڑھاپا نہیں کہتے 
اللہ بھلا کرے شاعر کا یہ شعر جب بھی خود کو سناتے ہیں گردش دوران خون دوگنی ہوجاتی ہے۔  گھر پہنچ کر شام کی چائے بھی نہیں پی اور نہانا بھی موخر کردیا۔ روز ہی تو نہاتے ہیں ایک دن نہ نہائے تو کیا ہوا۔ تھکن کا احساس تقریبا" ختم ہوچکا تھا۔ بچے ملنے لگے تو ٹھوکریں مارنے کو دل کر رہا تھا راستے کی رکاوٹ کی طرح۔ بچے ہی کیا ساری دنیا ٹھوکر پہ تھی۔ موبائل اٹھایا اور ایک محفوظ کونے میں جاکر بیٹھ گئے۔ ہونٹوں پرمسکراہٹ جیسے چپک سی گئی تھی۔ دل کی دھڑکن محسوس تو ہو ہی رہی تھی باقاعدہ دکھائی اور سنائی بھی دے رہی تھی۔ دل سینے کی دیواروں سے اچھل اچھل کر یوں ٹکرا رہا تھا جیسے جنگلی پرندہ پہلی بار پنجرے کی دیواروں سے ٹکرا کر سر پھوڑ رہا ہوتا ہے۔  موبائل نکالا اور فیس بک کھول کر بیٹھ گیا۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔  سکرین کی دھندلاہٹ دیکھ کر یاد آیا کہ عینک نہیں لگائی۔ جلدی سے عینک اٹھائی اور صاف کرکے پہن لی۔ دل کی دھڑکن اور تیز ہوگئی۔ فیس بک میسنجر پر مسیج آیا تھا 
Thanks for accepting my request 
پڑھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ دل ہی دل میں سوچا لڑکی خاندانی ہے۔ رکھ رکھاؤ والی سلیقہ مند۔ مسیج کھولا اور نام دوبارہ دیکھا تو وہ گل ناز نہیں گل نواز تھا۔ میرا کلاس فیلو۔ میں نے فورا" بلاک کردیا اور نہانے چلا گیا۔

قدرت اور قانون

قدرت اور قانون 
میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی جانور یا پرندے کو رزق کی تنگی کی وجہ سے نہ تو خودکشی کرتے دیکھا ہے اور نہ بچوں کو مارتے دیکھا ہے۔ ہاں جانوروں کو رزق کیلئے ایک دوسرے سے لڑتے مرتے ضرور دیکھا ہے۔ جانوروں کو دوسرے جانوروں کو کھاتے بھی دیکھا ہے۔ 
دوسری طرف انسان ہے جسے ہم اشرف المخلوقات یعنی تمام دوسری مخلوقات سے افضل بھی مانتے ہیں۔ اکثر ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ غربت اور تنگدستی سے دل برداشتہ ہوکر لوگ خود کشی کرلیتے ہیں۔ کچھ لوگ بچوں تک کو مار ڈالتے ہیں کیونکہ بچے کی تکلیف ان سے برداشت نہیں ہوتی۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ انسان اور دوسری مخلوقات میں یہ فرق کیوں ہے؟ 
بہت سے لوگوں سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی اور تقریباً سب اس نتیجے پر پہنچے کہ جب معاشرے میں انصاف نہیں ہوتا اور ظلم و جبر ہوتا ہے تو طاقتور کمزور کا حق چھین لیتا ہے اور جب کمزور ہر طرف سے مایوس ہوجاتا ہے اسکے بعد اسکے پاس زندگی ختم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔ اس دلیل میں بڑی جان ہے اور دلکش لگتی ہے لیکن میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ جب انسانی معاشرے میں اچھے اقدار کی کمی دکھائی دیتی ہے تو ہم فوراً کہہ دیتے ہیں کہ یہاں تو جنگل راج ہے طاقت کا قانون چلتا ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ جانوروں میں طاقتور کمزوروں کا استحصال زیادہ کرتے ہیں۔ لہذا معاشرے میں طاقتور کا کمزوروں پر ظلم بہت ساری وجوہات میں سے ایک وجہ تو ہوسکتی ہے لیکن یہ کہنا کہ یہی ایک وجہ ہے مایوسی کی، درست نہیں لگتا۔ 
اب اگر اس ساری صورتحال کو مذہب اور قرآن کیساتھ جوڑ کر دیکھیں تو جس شخص کا قرآن پر ایمان ہے اور یہ یقین ہے کہ قرآن میں لکھی ہر بات سچ ہے تو پھر ایک صاحب ایمان کا خودکشی کرنا سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ یقین ہے کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اور وہ رزق دیگا۔ اللہ تعالیٰ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ املاک کی کمی کی وجہ سے اولاد کو قتل نہ کرو ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی دیں گے۔ جب اللہ نے وعدہ کرلیا پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ میرا رزق کوئی دوسرا چھین کر لے گیا؟ اور اگر لے گیا تو پھر وعدے کا کیا بنا؟ 
سوچ و بچار، مشاہدے اور مطالعے کے بعد میں جس  نتیجے پر پہنچا ہوں وہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ یہ میری ذاتی رائے ہے اور غلط بھی ہوسکتی ہے آپ کا اس سے متفق ہونا لازم نہیں ہے۔ 
ہم ایک بنیادی غلطی جو کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اللہ کی قدرت اور قانون کو ایک دوسرے میں مدغم کرلیتے ہیں جبکہ یہ دو بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔ اللہ قادر مطلق تو ہے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے لیکن اس نے کچھ قوانین وضع کئے ہیں اور دنیا انہی قوانین کے تحت چلتی ہے اور اللہ ان قوانین کے خلاف نہیں کرتا کچھ۔ مثلاً وہ چاہے تو بغیر بادل کے بارش برسا دے یہ اسکی قدرت ہے لیکن اسکا قانون یہ ہے کہ بارش بادلوں سے ہی برسے گی۔ ہاں بعض اوقات وہ اپنے قوانین کو توڑ کر اپنے وجود کا اظہار کرتا ہے۔ اور چونکہ یہ انسانی عقل اور تجربے کے خلاف ہوتا ہے اسلئے اسے معجزہ کہتے ہیں اور معجزات انبیاء کیلئے مخصوص ہیں۔ مثال کے طور پر آگ کا کام جلانا ہے لیکن اللہ چاہے تو اس میں سے حرارت نکال دے۔ 
اب باقی جانداروں اور انسانوں میں جو بنیادی فرق مجھے نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ جانور اور پرندوں کو بنادی قوانین بتا دئیے گئے اور وہ بلا چوں چرا اس کی پابندی کرتے ہیں۔ ان میں قوانین کی خلاف ورزی کی طاقت ہی نہیں۔ مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شیر گھاس کھا کر پیٹ بھرنا شروع کرے اور ایک ہرن جانوروں کا شکار کرکے گوشت کھانا شروع کرے یا شاہین رات کو شکار کرے اور الو دن کا شکاری بن جائے۔ 
انسان کیساتھ معاملہ ذرا مختلف ہے۔ انسان کو بھی بنیادی قاعدے قوانین تو بتا دئیے گئے لیکن چونکہ وہ نائب ہے اسلئے اسے اختیار بھی دے دیا گیا کہ وہ ان قوانین کی اگر چاہے تو خلاف ورزی کرلے اور اس طاقت کے احتساب کیلئے ایک یوم حساب بھی بتا دیا گیا کہ جس دن آکر سب حساب کتاب دیں گے کہ کیا کیا اور کیوں کیا۔ 
اب ہوتا یہ ہے کہ انسان اکثر قوانین کو نظر انداز کرکے اللہ کی قدرت پر بھروسہ کرکے بیٹھ جاتا ہے۔ مثلاً کئی لوگ اسلئے نکمے بن کر بیٹھ جاتے ہیں کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اسکی فکر نہ کریں۔ پرندہ بھی صبح خالی پیٹ ہوتا ہے اور شام کو پیٹ بھر کر گھونسلے میں آتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ رزق اللہ نے دینا ہے لیکن کیسے دینا ہے اسکے لئے کچھ قانون اور قاعدے بھی ہیں۔ پرندے کا خالی اور بھرا پیٹ تو ہمیں نظر آتا ہے لیکن ان دو کے درمیان پرندے نے کیا کیا، کتنی محنت کی اور کن خطرات کا سامنا کیا وہ ہم جاننے اور سمجھنے کوشش نہیں کر پاتے۔ اور اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان مایوسی کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اللہ کا اعلان تو بہت واضح ہے۔ وہ تو کہتا ہے کہ انسان کیلئے صرف وہی کچھ ہے جسکے لئے وہ سعی کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اللہ کی قدرت پر ایمان جتنا کامل ہے کم سے کم اسی درجے میں اسکے قوانین کو بھی قبول کیا جائے۔

ٹیلی پیتھی

ٹیلی پیتھی 

شاید آپ میں سے بہت سے لوگوں نے دیوتا ناول کی کوئی نہ کوئی قسط ضرور پڑھی ہوگی۔ اس ناول کی کہانی ساری ٹیلی پیتھی کے گرد گھومتی ہے۔ ٹیلی پیتھی سادہ ترین لفظوں میں ایک انسانی دماغ سے بات بلا واسطہ دوسرے انسانی دماغ تک پہنچانے کے عمل کو کہتے ہیں۔ دیوتا ناول چونکہ بہت شوق سے پڑھتے تھے اسلئے اس سے متاثر ہونا بھی لازمی امر تھا۔ لہذا بچپن میں ٹیلی پیتھی سیکھنے کیلئے کئی چھوٹے چھوٹے کتابچے لیکر اور جون جولائی کی گرم راتوں میں بغیر پنکھا چلائے (تاکہ گھر میں کسی کو پتا نہ چلے) پسینے میں شرابور شمع بینی کرتے رہے۔ چھت پر آدھی رات کو چڑھ کر قمر بینی بھی کی۔ اس سے جو نتائج ہم حاصل کرنا چاہتے تھے وہ تو نہیں ہوسکے البتہ ایک آدھ پیغام جو ہمارے دماغ سے برآمد ہوا وہ سیدھا والد صاحب کے دماغ میں پہنچا۔ اسکے بعد کیا ہونا تھا کہ ٹیلی پیتھی سیکھنے والی ساری کتابیں جلا دی گئیں اور ہماری بھی خاطر خواہ مرمت کردی گئی۔ 
لیکن پھر کل ایک ذاتی اور حقیقی تجربہ ہوا اور جس سے مجھے یقین ہوگیا کہ ٹیلی پیتھی کے بارے میں جو باتیں اب تک سنی اور پڑھی تھیں وہ اتنی غلط بھی نہیں تھیں۔ 
ہوا یوں کہ کل کسی مصروفیت کی وجہ سے گھر سے باہر تھا۔ ماہ رمضان میں افطاری کے وقت ہی میں پورا کھانا کھا لیتا ہوں مطلب سب کچھ ایک ہی نشست میں ہوتا ہے۔ لیکن گھر سے باہر ہونے کی وجہ سے صرف افطاری کرلی جس میں ایک کھجور ایک دو پکوڑے،اور تھوڑا سا پھل شامل تھا۔ سوچا کھانا گھر جاکر کھا لوں گا۔ میرا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر وقت پر کھانا نہ کھاؤں تو بلڈ پریشر لو ہو جاتا ہے اور اسکے بعد سر درد اتنا ہوتا ہے کہ میں بلا مبالغہ ایک ذبح کئے ہوئے جانور کی طرح تڑپتا ہوں۔ دوائی کھا بھی لوں تو کم سے کم ایک گھنٹہ لگتا ہے درد رکنے میں۔ 
کل جب گھر جارہا تھا تو شدید سردرد شروع ہوچکا تھا اور گاڑیوں کی روشنیوں اور آوازوں سے مزید بڑھ رہا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ بلڈ پریشر لو ہوچکا ہے اور ذہنی طور پر تکلیف کیلئے تیار تھا۔ گھر پہنچ کر میں سیدھا اپنے کمرے میں گیا اور سب سے کہہ دیا کہ طبیعت ٹھیک نہیں اور میں سونے لگا ہوں ڈسٹرب نہ کرنا اور موبائل بھی آف کرلیا۔ ایسے موقعوں پر میں اکیلا اندھیرے کمرے میں رہتا ہوں کیونکہ اگر کوئی اور دیکھے تو پریشان ہوسکتا ہے کہ شاید مرنے والا ہے۔ کل رات شاید زندگی کا سب سے شدید سر درد تھا۔ زیادہ تر تو میں اللہ اللہ ہی کر رہا تھا لیکن دو یا تین بار ایسا بھی ہوا کہ درد رک کر اور پھر یک دم ایک دھماکے سے لوٹتا تو میں ہڑبڑا کر بیٹھ جاتا اور منہ سے ہائے امی کے الفاظ نکل جاتے۔ کس وقت درد رکا اور میں سویا پتا نہیں لیکن جب سحری کے وقت اٹھا تو جیسے ہی فون آن کیا امی کی کال آگئی۔ پوچھنے لگیں خیریت ہے رات سے فون کیوں آف تھا؟ میں نے کہا بیٹری ختم ہوگئی تھی ابھی چارج کیا تو آن ہوا، کیوں خیریت تھی؟ کہنے لگیں ویسے ہی رات بے چینی ہورہی تھی تو سوچا پوچھ لوں کہ سب ٹھیک تو ہے۔ 
میں نے طبیعت کی خرابی کا تو نہیں بتایا کہ وہ پریشان ہوجائیں گی لیکن اس بات پر یقین پختہ ہوگیا کئ دنیا میں ٹیلی پیتھی کہیں اور ہو نہ ہو ماں بچوں کی پکار بغیر آواز کے سننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب اللہ انسان سے اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتا تھا تو اس نے پیمانہ ماں کی محبت کو کیوں بنایا۔

پشتون کے دشمن کون؟

پشتون کے دشمن کون؟ 
موجودہ حالات و واقعات کے تناظر میں اس سوال کا جواب ڈھونڈنا بہت اہم ہے کہ پشتون کا سب سے بڑا دشمن کون ہے؟ اگر کسی جذباتی پشتون سے یہ سوال پوچھیں تو شاید فوراً دو چار جواب مل جائیں مثلاً پہلا جواب ملے گا پنجابی۔ یہ جواب وہ لوگ دیں گے جو ستر سال سے پشتون نیشنلسٹ سیاستدانوں کی باتیں سنتے آرہے ہیں۔ دوسرا جواب شاید یہ ملے کہ نہیں طالبان جنہوں نے آدھے پشتون نوجوانوں کو مجاہدین قرار دیا اور جو باقی بچے انکو مرتد اور لادین قرار دے کر بے دریغ قتل کیا۔ کونسا ایسا قبرستان ہے جس میں کوئی شہید دفن نہیں ہے؟ تیسرا جواب ملے گا پاک فوج۔ یہ جواب وہ لوگ دیں گے جو ماضئِ قریب کے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور سوشل میڈیا کو ہی اپنی مستند معلومات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ 
میں ان تینوں سے متفق نہیں ہوں۔ اگر پنجاب پشتونوں کا دشمن ہوتا اور آپکے پشتون نیشنلسٹ سیاستدان واقعی انکو دشمن سمجھتے تو ہر اہم موقعے پر اپنا وزن پنجاب کی سیاسی جماعتوں کے پلڑے میں نہ ڈالتے۔ اگر طالبان یا مذہبی لوگوں کو آپ دشمن قرار دے رہے ہیں تو ذرا ان کے کمانڈروں اور دائیں بائیں موجود لوگوں پر نظر دوڑائیں وہ خود سب پشتون ہی ہیں آپکے میرے بھائی وہ کیسے آپ کے دشمن ہوسکتے ہیں۔ اب رہ جاتی ہے پاک فوج۔ اگر پاک فوج پشتونوں کی دشمن ہے اور اس کی بنیاد قبائلی علاقوں میں ملٹری آپریشن ہے تو عرض کرتا چلوں کہ سوات میں ملا فضل اللہ سے شروع ہونے والی کہانی میں ملا فضل اللہ سے لیکر عوامی نیشنل پارٹی تک سب پشتون ہی تھے۔ سوات کے چوراہوں میں لٹکنے والی لاشیں بھی پشتونوں کی تھیں انہیں لٹکانے والے بھی پشتون تھے اور لٹکانے والوں کے خلاف ملٹری آپریشن کا مطالبہ کرنے والے بھی پشتون تھے۔ 
مجھ سے پوچھیں تو پشتون کا سب سے بڑا دشمن پشتون خود ہی ہے۔ اور یہ بات جتنی تلخ ہے اتنی ہی سچی ہے۔ 
آئیں زیادہ نہیں ذرا چالیس سالہ تاریخ پر نظر دوڑ اتے ہیں۔ سوشلسٹ روس افغانستان کی حکومت کی دعوت پر افغانستان میں آجاتا ہے۔ کیپیٹلسٹ امریکہ کو یہ ناگوار گزرتا ہے۔ پشتون کو بہادری کی سرٹیفیکیٹ دیکر افغانستان میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور پندرہ سال تک لڑایا جاتا ہے۔ روس ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بکھر جاتا ہے۔ امریکہ کا کوئی مفاد نہیں رہتا سو وہ بھی چلا جاتا ہے۔ پیچھے پشتون رہ جاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ بہادر ہے اسلئے وہ ایسے تو بیٹھنے سے رہا۔ افغانستان میں طالبان اٹھتے ہیں اور ایک اور جہاد شروع ہوجاتا ہے۔ اب پڑوس میں جہاد ہو اور بہادر آرام سے بیٹھا رہے یہ کیسے ممکن ہے؟ تو صاحب بہادر ایک بار پھر کمر کس لیتا ہے اور مارا ماری شروع کردیتا ہے۔ کچھ لوگ تاریخ سے سبق سیکھ چکے ہوتے ہیں وہ بہادری چھوڑ کر ایک طرف ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔ انہیں مرتد اور کفر کے اتحادی قرار دیکر انکا صفایا شروع کردیا جاتا ہے۔ اسکے بعد یہ مذہبی انتہا پسندی ناقابل برداشت ہوجاتی ہے۔ اسکا صفایا ضروری ہوجاتا ہے اور یہی جدت پسند پشتون چلانا شروع کردیتے ہیں کہ ہمیں مارا جا رہا ہے۔ پاک فوج آتی ہے اور آپریشن شروع کردیتی ہے۔ اس میں اچھے برے سب مارے بھی جاتے ہیں اور متاثر بھی ہوتے ہیں۔ شاید ہی کوئی گھر ہو جس میں کوئی شہید نہ ہو۔ جتنے طالبان کے ہاتھوں ہوئے اتنے ہی اپنی فوج کے ہاتھوں بھی شہید ہوئے۔ لیکن یہ سب کچھ برداشت کرکے جب امید ہوچلی تھی کہ اب شاید حالات کچھ بہتری کی طرف جائیں تو اچانک کچھ لوگ نقیب اللہ محسود شہید کے واقعے سے لوگوں میں مقبولیت حاصل کرکے پشتون تحفظ موومنٹ بنا لیتے ہیں اور فوج کو للکارنا شروع کردیتے ہیں۔ انکا بیانیہ عوام میں مقبول ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اور پھر تحفظ کے نام پر ایک بار پھر بچے کھچے نوجوانوں کو اپنی فوج کی گولیوں کے سامنے کھڑا کردیا جاتا ہے۔ 
سوشلسٹ روس کے خلاف کیپیٹلسٹ امریکہ کی جنگ کا ایندھن پشتون بنا۔ 
پھر مذہب کے نام پر کیپیٹلسٹ کے خلاف اسلامی جنگ کا ایندھن پشتون بنا۔ 
پھر انہی مذہبی لوگوں کی گولی کا نشانہ بھی کافر، زندیق، مرتد اور جاسوس کہلا کر پشتون بنا۔ 
اور اب پھر سوشلسٹ نظریات رکھنے والے پی ٹی ایم کے ہاتھوں کا کھلونا بھی پشتون بن رہا ہے۔ ان چالیس سالوں میں نقصان کس کا ہوا؟ پشتون کا۔ کس کے ہاتھوں؟ پشتون کے ہاتھوں۔ تو پھر دشمن کون ہوا؟ 
پشتون کا جو تحفظ چاہتا ہے وہ اگلے تیس سال تک پشتون کے ہاتھ سے بندوق چھین لے۔ اسے ہر کسی کے نعروں اور بہادری کی سرٹیفیکیٹس سے دور رکھے۔ ان کیلئے معیاری تعلیم مانگے سکول کالج یونیورسٹیاں مانگے۔ ہسپتال مانگے۔ تیس سال انکو کوئی بہادری کا کارنامہ انجام دینے سے باز رکھے۔ ایک نسل کو تعلیم دیکر دیکھے تو پشتون خود بخود محفوظ ہوجائے گا۔ 
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ نعرہ مقبول نہیں۔ ایک جنگجونسل کو ہر حال میں جنگ چاہئے۔ وہ صرف طبل جنگ پر ہی لبیک کہیں گے۔ اور یہی وجہ ہے کہ پی ٹی ایم والے بھی طبل جنگ بجا کر ہی انکا لہو گرما رہے ہیں۔ خدارا بس کردو۔ اپنی جھوٹی انا کی تسکین اور ذرا سی شہرت کیلئے ماوں کے گود نہ اجاڑو، بچوں کے سر سے باپ کا سایہ مت چھینو، سہاگنوں کو بیوہ نہ کرو، بہنوں کو بھائیوں کے لاشو پر نہ رلاؤ۔ اور پشتون نوجوانوں سے گزارش ہے کہ اگر اپنے دشمن پہچاننا چاہتے ہو تو ایک بات یاد رکھو جو بھی تمہیں لڑنے اور مرنے مارنے پر اکسائے وہی تمہارا دشمن ہے۔ جب تک بہادر بنتے رہوگے مرتے رہوگے اور دوسروں کی لگائی ہوئی آگ کا ایندھن بنتے رہوگے۔

ye zabta hai ki baatil ko mat kahun baatil | ضابطہ | Habib Jalib

یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازوئے قاتل یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ د...