وہ بھی کتنی بے وفا ہے۔ سالوں میرے پاس رہی۔ وہ میری تھی صرف میری۔ کوئی اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتا تو میں آگ بگولا ہوجاتا۔ اسے پانے کیلئے میں نے کیا کیا جتن نہیں کئے؟ در در کی خاک چھانی۔ ہر دربار پہ سر جھکایا اسے پانے کیلئے۔ مجھے لگا تھا وہ ہمیشہ کیلئے میری ہے۔ لیکن کتنے دکھ کی بات ہے کہ آج وہ میری نہیں رہی۔ ایک لمحے میں اس نے اپنا دامن چھڑا لیا۔ وہ کسی اور کی ہونے جارہی ہے۔ اب ایسے میں میں چیخوں نہیں چلاوں نہیں واویلا اور ماتم نہ کروں چھاتی نہ پیٹوں تو اور کیا کروں۔ ایسے اچانک سب کچھ کیسے بدل سکتا ہے۔ آج تو رونے کی اجازت دے دو۔ چیخنے چلانے کی اجازت دے دو۔ آج تو نہ روکو۔
یہ کسی نامراد عاشق کا واویلا نہیں الیکشن میں ہارے ہوئے سیاستدان کی دہائی ہے۔ حکومت چھن جانے کا سوگ منا رہا ہے۔
اس بلاگ کا بنیادی مقصد تو میری کی ہوئی سمع خراشی کو یکجا کرنا تھا۔ ماضی میں جتنا یہاں وہاں، ادھر اُدھر لکھا اس کے یا تو بچوں نے جہاز بنا کر اڑادئیے یا ردی کی نذر ہوگئے۔ چینی زبان کا ایک مقولہ ہے کہ پھیکی سے پھیکی روشنائی اچھے سے اچھے حافظے سے بدرجہا بہتر ہے۔ لیکن روایتی کاغذ اور روشنائی کی وجہ سے بہت سا کام ضائع کرچکا ہوں اسلئے یہ طریقہ آزما رہا ہوں۔ دعا گو ہوں کہ اب کی بار ای میل کا پاس ورڈ نہ بھول جائے۔ تنقید و اصلاح کی مکمل آزادی ہے۔
جمعہ، 17 اگست، 2018
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
ye zabta hai ki baatil ko mat kahun baatil | ضابطہ | Habib Jalib
یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازوئے قاتل یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ د...
-
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا...
-
پچھلے دنوں ایک دوست نے بیٹھے بیٹھے سوال جھاڑ دیا کہ تم عمر کے اس آخری حصے میں بھی ہر وقت اتنے خوش دکھائی دیتے ہو تو تمہارا بچپن ...
-
ہم بہادر پاکستانی ہم پاکستان بحیثیت قوم بہت بہادر ہیں۔ ہمیں بغیر ہیلمٹ کے موٹرسائیکل چلانے اور اس سے گرنے سے قطعا" ڈر نہیں لگتا۔ ہمیں ...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں