اس بلاگ کا بنیادی مقصد تو میری کی ہوئی سمع خراشی کو یکجا کرنا تھا۔ ماضی میں جتنا یہاں وہاں، ادھر اُدھر لکھا اس کے یا تو بچوں نے جہاز بنا کر اڑادئیے یا ردی کی نذر ہوگئے۔ چینی زبان کا ایک مقولہ ہے کہ پھیکی سے پھیکی روشنائی اچھے سے اچھے حافظے سے بدرجہا بہتر ہے۔ لیکن روایتی کاغذ اور روشنائی کی وجہ سے بہت سا کام ضائع کرچکا ہوں اسلئے یہ طریقہ آزما رہا ہوں۔ دعا گو ہوں کہ اب کی بار ای میل کا پاس ورڈ نہ بھول جائے۔ تنقید و اصلاح کی مکمل آزادی ہے۔
ہفتہ، 18 اگست، 2018
یقین
ماں کبھی اپنے بچے پر ظلم نہیں کرسکتی۔ لیکن ضرورت کے وقت زبردستی پکڑ کر نہلاتی ہے، ہاتھ پاوں پکڑ کر ٹیکہ لگواتی ہے، اور ناک بند کرکے زبردستی حلق میں کڑوی دوائی بھی انڈیل دیتی ہے۔ بچہ چیختا ہے چلاتا ہے لیکن ماں اسکی چیخ و پکار نظر انداز کردیتی ہے۔ اور یہ سب کچھ ماں بچے کی بھلائی میں کرتی ہے۔ ستر ماووں سے زیادہ محبت کرنے والا رب جب زبردستی حلق میں کڑوی دوائی انڈیلتا ہے تو بہتری کیلئے ہی ہوتا ہے بس انسان کو بچے کی طرح اس بات کا ادراک نہیں ہوتا۔ لیکن انسان کا یقین کم سے کم اس بچے جتنا مضبوط ہونا چاہئے جسے ماں گود میں دبوچ لیتی ہے اور جب ڈاکٹر ٹیکہ لگاتا ہے تو درد سے جب چیخ نکلتی ہے تو وہ اسی ماں کو پکارتا ہے جس نے اسے دبوچا ہوتا ہے۔ ہر رنج و الم میں اسی رب کو پکارنا چاہئے۔ بے شک وہ بہتر جانتا ہے۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
ye zabta hai ki baatil ko mat kahun baatil | ضابطہ | Habib Jalib
یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازوئے قاتل یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ د...
-
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا...
-
بڑی مدت بعد آج مرزا عبدالودود بیگ نظر آئے۔ بہت رنجیدہ اور غصے میں تھے۔ پوچھا مرزا کیسی گر رہی ہے؟ کہنے لگے آنکھوں کا علاج کس ڈاکٹر سے کروا ر...
-
وہ بھی کتنی بے وفا ہے۔ سالوں میرے پاس رہی۔ وہ میری تھی صرف میری۔ کوئی اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتا تو میں آگ بگولا ہوجاتا۔ اسے پانے کیلئے م...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں