اِس سے پہلے کہ کوئی اِن کو چُرا لے، گِن لو
تُم نے جو درد کیے میرے حوالے، گِن لو
چل کے آیا ھُوں، اُٹھا کر نہیں لایا گیا مَیں
کوئی شک ھے تو مرے پاؤں کے چھالے گِن لو
جب مَیں آیا تو اکیلا تھا، گِنا تھا تُم نے
آج ھر سمت مرے چاھنے والے گِن لو
مکڑیو ! گھر کی صفائی کا سمَے آ پہنچا
آخری بار در و بام کے جالے گِن لو
زخم گننے ھیں اگر میرے بدن کے، یاراں !
تُم نے جو سنگ مِری سَمت اُچھالے، گِن لو
خُود ھی پھر فیصلہ کرنا کہ ابھی دن ھے کہ رات
شوق سے گِن لو اندھیرے، پھر اُجالے گِن لو
اب نہیں کرتا کسی پر بھی بھروسہ کوئی
گر نہیں مُجھ پہ یقیں، شہر میں تالے گِن لو
مَے کدے میں کئی مشکوک سے لوگ آئے ھیں
ان کو پِلوا دو مگر اپنے پیالے گِن لو
تُمہیں کرنی ھے گر احباب کی گنتی فارس !
آستینوں میں چُھپے دُودھ کے پالے گِن ل
اس بلاگ کا بنیادی مقصد تو میری کی ہوئی سمع خراشی کو یکجا کرنا تھا۔ ماضی میں جتنا یہاں وہاں، ادھر اُدھر لکھا اس کے یا تو بچوں نے جہاز بنا کر اڑادئیے یا ردی کی نذر ہوگئے۔ چینی زبان کا ایک مقولہ ہے کہ پھیکی سے پھیکی روشنائی اچھے سے اچھے حافظے سے بدرجہا بہتر ہے۔ لیکن روایتی کاغذ اور روشنائی کی وجہ سے بہت سا کام ضائع کرچکا ہوں اسلئے یہ طریقہ آزما رہا ہوں۔ دعا گو ہوں کہ اب کی بار ای میل کا پاس ورڈ نہ بھول جائے۔ تنقید و اصلاح کی مکمل آزادی ہے۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
ye zabta hai ki baatil ko mat kahun baatil | ضابطہ | Habib Jalib
یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازوئے قاتل یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ د...
-
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا...
-
بڑی مدت بعد آج مرزا عبدالودود بیگ نظر آئے۔ بہت رنجیدہ اور غصے میں تھے۔ پوچھا مرزا کیسی گر رہی ہے؟ کہنے لگے آنکھوں کا علاج کس ڈاکٹر سے کروا ر...
-
وہ بھی کتنی بے وفا ہے۔ سالوں میرے پاس رہی۔ وہ میری تھی صرف میری۔ کوئی اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتا تو میں آگ بگولا ہوجاتا۔ اسے پانے کیلئے م...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں